مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان بیانات کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں تہران نے ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم واشنگٹن نے اس مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے سرکاری نشریاتی ادارے کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ اس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ایران کے ساحلی علاقے چاہ بہار کے قریب ایک امریکی ایف-18 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا، جو مبینہ طور پر بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہو گیا، یہ کارروائی نیول موبیلائزیشن فورس کے ایئر ڈیفنس یونٹس نے انجام دی، جنہوں نے انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنایا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اپنے دعوے کے حق میں ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، جس میں مبینہ طور پر طیارے کو نشانہ بنائے جانے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے اور اسے ایران کی جانب سے اپنی عسکری کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
US F-18 JET HIT BY AIR DEFENSES OVER IRAN — IRGC pic.twitter.com/uFYL2Jwnb1
— RT (@RT_com) March 25, 2026
دوسری جانب امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی امریکی جنگی طیارے کو مار گرانے کی خبر بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہے۔
🚫FALSE: The Islamic Revolutionary Guard Corps announced a U.S. F/A-18 fighter was struck over Chabahar using new advanced air defense systems.
✅TRUE: No U.S. fighter aircraft have been shot down by Iran. pic.twitter.com/I25QFjYo0l
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 25, 2026
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور اس نوعیت کے دعوے دراصل معلوماتی جنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کا مقصد گمراہ کن اطلاعات کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازع اب صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہا بلکہ اطلاعات اور بیانیے کی سطح پر بھی شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں دونوں فریق اپنی کامیابیوں کو نمایاں کرنے اور مخالف کو دباؤ میں لانے کے لیے مختلف دعوے کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس ویڈیو یا ایرانی دعوے کی تاحال کسی آزاد اور معتبر ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بیانات اور جوابی دعوؤں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔
