قاہرہ: فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ سے اپنی فوج کو مکمل طور پر واپس نہیں بلاتا اور اس عمل کی یقینی ضمانت فراہم نہیں کی جاتی، اس وقت تک غیر مسلح ہونے کے حوالے سے کوئی بھی مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حماس کے وفد نے قاہرہ میں مصر، قطر اور ترکیہ کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی ہے، جس میں تنظیم نے عالمی سطح پر پیش کردہ غیر مسلح ہونے کے مجوزہ منصوبے پر اپنا ابتدائی ردعمل دیا اور اپنی مخصوص ترامیم اور مطالبات ثالثوں کے سامنے رکھے ہیں۔
مزاحمتی تنظیم کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کو مستقل شکل دینے اور امن منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے لیے اسرائیلی فوج کا انخلا بنیادی شرط ہے۔ جب تک اسرائیل غزہ کی سرزمین سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہوتا، تب تک ہتھیار ڈالنے یا غیر مسلح ہونے پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔
حماس نے ان مذاکرات کے دوران اسرائیلی کارروائیوں اور وعدہ خلافیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ماضی میں جنگ بندی کے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، جس کے نتیجے میں غزہ میں سیکڑوں فلسطینیوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا ہے اور تباہی پھیلی ہے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس تباہ کن جنگ میں اب تک 22 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
خطے میں جاری اس شدید کشیدگی نے غزہ میں انسانی بحران اور قحط کو جنم دیا ہے۔ اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے امدادی سامان کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے اور وہاں کی اکثر آبادی بے گھر ہو کر بار بار نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکی ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
