پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے ممکنہ مذاکراتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے، جس کے تحت 10 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت ہونے جا رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے پس پردہ رابطوں کے ذریعے ابتدائی فریم ورک کو تقریباً حتمی شکل دے دی ہے اور فریقین کو مذاکرات کے دوران تحمل اور سنجیدگی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ ایک سازگار ماحول میں بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی نشست میں امریکا اور ایران اپنے تیار کردہ نکات پیش کریں گے، جن کا شق وار جائزہ لیا جائے گا، اگر کسی نکتے پر اختلاف سامنے آیا تو اس پر تفصیلی بحث کے بعد درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ مذاکراتی عمل تعطل کا شکار نہ ہو۔
اسلام آباد میں ہونے والی اس ممکنہ بیٹھک میں پاکستان کا کردار بطور ثالث اور رابطہ کار ہوگا، جبکہ اگلے مراحل کے لیے ٹائم فریم بھی طے کیا جا سکتا ہے۔
سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات کئی مراحل پر مشتمل ہو سکتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے مسلسل رابطہ ضروری ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ایک باضابطہ معاہدہ طے پا سکتا ہے، جس میں پاکستان سمیت دیگر اہم ممالک ضامن کا کردار ادا کریں گے، جبکہ اس دوران جنگ بندی کے وقفے کو بڑھانے جیسے اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
