شہید بینظیر آباد: نجی اسکولوں کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی رول اینڈ ریگولیشنز اور والدین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے خلاف اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ہومن رائٹس پروٹیکشن محب وطن آرگنائزیشن پاکستان کی رجسٹرڈ ٹیم نے ریجنل محتسب اعلیٰ کے دفتر میں باقاعدہ درخواست ثبوتوں کے ساتھ جمع کرا دی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ریجنل محتسب شہید بینظیر آباد نے انکوائری کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق ہومن رائٹس پروٹیکشن محب وطن آرگنائزیشن پاکستان کی ٹیم کو مختلف نجی اسکولوں کے خلاف والدین کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ شکایات میں کہا گیا تھا کہ نجی اسکول انتظامیہ حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی فیسیں وصول کر رہی ہے، غیر ضروری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ والدین کو مختلف غیر قانونی پالیسیوں کے ذریعے دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق والدین نے تنظیم سے رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ بعض نجی اسکولوں میں سالانہ فیسوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کتابوں، یونیفارم اور دیگر اشیاء کی خریداری مخصوص دکانوں سے لازمی قرار دی جا رہی ہے، جو کہ حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ کے داخلے، امتحانات اور دیگر معاملات میں بھی سخت اور غیر قانونی رولز نافذ کیے جانے کی شکایات سامنے آئیں۔
ان شکایات کے بعد ہومن رائٹس پروٹیکشن محب وطن آرگنائزیشن پاکستان کی ٹیم نے تمام معاملات کی چھان بین کی اور والدین سے تحریری شکایات، فیس اسٹرکچر، نوٹسز اور دیگر متعلقہ دستاویزات حاصل کیں۔ بعد ازاں تنظیم کی جانب سے مکمل ثبوتوں کے ساتھ ریجنل محتسب اعلیٰ شہید بینظیر آباد کے دفتر میں باضابطہ درخواست جمع کروائی گئی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نجی اسکول انتظامیہ حکومتی پالیسیوں اور تعلیمی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے والدین کو مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار بنا رہی ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
درخواست موصول ہونے پر ریجنل محتسب شہید بینظیر آباد نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر انکوائری کا حکم جاری کر دیا۔ ریجنل محتسب کی جانب سے متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ شکایات کی مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس موقع پر ہومن رائٹس پروٹیکشن محب وطن آرگنائزیشن پاکستان کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ یہ اقدام والدین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے، تعلیم ایک بنیادی حق ہے اور نجی اسکولوں کو حکومتی قوانین کے مطابق چلنا ہوگا۔ کسی بھی صورت میں والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
تنظیم کے نمائندوں نے والدین کے بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ والدین کی جانب سے فراہم کیے گئے ثبوتوں نے اس کیس کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی والدین کے ساتھ مل کر نجی اسکولوں کی غیر قانونی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
والدین کی جانب سے بھی ریجنل محتسب کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ والدین کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے نجی اسکولوں کی پالیسیوں سے پریشان تھے، تاہم اب امید ہے کہ اس انکوائری کے بعد مسائل کا حل نکلے گا اور نجی اسکول حکومتی قوانین پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہوں گے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی انتہائی ضروری ہے تاکہ تعلیمی معیار برقرار رہے اور والدین کو غیر ضروری بوجھ سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس انکوائری میں بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں تو یہ اقدام دیگر نجی اسکولوں کے لیے بھی مثال بنے گا۔
ہومن رائٹس پروٹیکشن محب وطن آرگنائزیشن پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کیس کی مکمل پیروی کرے گی اور انصاف کی فراہمی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
