تل ابیب: اسرائیل کے دارالحکومت میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے حکومت سے فوری طور پر جنگی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل کشیدگی اور جنگی صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ خود اسرائیل کے عوام کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ جنگ کے بجائے امن کی راہ اختیار کی جائے۔


احتجاج کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ روکو اورنسل کشی بند کرو جیسے نعرے درج تھے جو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے کی عکاسی کر رہے تھے۔
دوسری جانب اسرائیل کے سابق نائب چیف آف اسٹاف یائیر گولان نے بھی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اس وقت شدید دباؤ میں ہیں اور وہ خود بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ جنگ کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔
اسرائیل کی ایک معروف فوجی اور سیاسی شخصیت یائیر گولان کا کہنا تھا کہ حقیقی فاتح کو بار بار اپنی کامیابی کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ صورتحال حکومت کے دعووں کے برعکس ہے، موجودہ حکومت اپنی پالیسیوں میں ناکام ہو چکی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو اقتدار سے الگ کر دیا جائے۔
