بڈاپسٹ: ہنگری میں منعقدہ حالیہ پارلیمانی انتخابات نے ملک کی سیاسی بساط الٹ دی ہے، جہاں طویل عرصے سے برسرِ اقتدار رہنے والی امریکی حمایت یافتہ حکومت کو اپوزیشن جماعت کے ہاتھوں غیر متوقع اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جو کہ ملکی تاریخ کا اہم موڑ ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انتخابات میں اپوزیشن کی تیسزا پارٹی نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمران جماعت فیدیز کو شکست دی۔
اپوزیشن رہنما پیٹر میگیار نے انتخابی مہم کے دوران نظام میں بنیادی تبدیلیوں اور ایک نئے ہنگری کے قیام کا وعدہ کیا تھا جس پر عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اپنی جماعت کی شکست کے بعد وزیراعظم وکٹر اوربان نے عوامی فیصلے کا احترام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج اگرچہ ان کے لیے تکلیف دہ ہیں، لیکن وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہوئے کامیاب ہونے والی جماعت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ وکٹر اوربان تقریباً 16 برس سے ہنگری کے اقتدار پر براجمان تھے اور انہیں عالمی سیاست میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ان کی طویل حکمرانی کے خاتمے کو یورپی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے دُور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
پیٹر میگیار جو ماضی میں حکومتی نظام کا حصہ رہ چکے تھے، اب ہنگری کی نئی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام روایتی سیاست سے تنگ آ کر اب تبدیلی کے خواہاں ہیں، جس کا عملی مظاہرہ انہوں نے ووٹ کے ذریعے کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخابات ہنگری کے مستقبل کے لیے ایک نئی سمت کا تعین کریں گے۔ ملکی عوام اب پیٹر میگیار کی قیادت میں معاشی اصلاحات اور حکومتی نظام میں بہتری کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہنگری کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔
