امریکی سکیورٹی تجزیہ کار اور بحریہ کے ریٹائرڈ ایڈمرل جیمز سٹیورڈز نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی دراصل ایران پر براہِ راست حملے کے بجائے معاشی دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنائے بغیر اس کی معیشت پر اثر ڈالنا ہے، تاہم یہ ایک نہایت پیچیدہ اور بڑا آپریشن ہوگا جسے عملی جامہ پہنانا آسان نہیں۔
جیمز اسٹیورڈز کے مطابق اس طرح کی ناکہ بندی کے لیے وسیع بحری طاقت درکار ہوگی جبکہ ایران کے پاس بھی اس کے جواب میں مختلف عسکری آپشنز موجود ہیں، جو صورتحال کو مزید کشیدہ بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس حکمت عملی پر عمل کیا گیا تو خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے اور اس کے اثرات عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
