English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایرانی بندرگاہوں پر حملے کی صورت میں خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی: ایرانی فوج

القمر

ایرانی فوج کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے خطے کی سلامتی کے حوالے سے ایک سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہوں کو کسی بھی نوعیت کا خطرہ درپیش ہوا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خلیجی علاقہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

اپنے بیان میں ایرانی فوج کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقار نے واضح کیا کہ خلیجی خطے کی بندرگاہوں کی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور اگر کسی ایک ملک کی بندرگاہ غیر محفوظ بنائی گئی تو دیگر بندرگاہیں بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔

ابراہیم ذوالفقار نے اس تناظر میں بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کے خلاف امریکی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں غیرقانونی قرار دیا اور کہا کہ یہ طرزِ عمل درحقیقت بحری قزاقی کے مترادف ہے۔

ایرانی حکام نے عندیہ دیا کہ حالیہ امریکی دھمکیوں کے بعد تہران آبنائے ہرمز میں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک مستقل اور مؤثر نظام نافذ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کا مقصد سمندری آمد و رفت کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہوئے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، ایران اپنی بحری حدود اور بندرگاہوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر ایرانی بحری تنصیبات یا تجارتی راستوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے، جس سے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس سخت مؤقف نے خلیج میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور اس کے نتیجے میں تیل کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز اور خلیج عمان عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہیں تصور کی جاتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے