امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران کئی نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، تاہم یورینیم کے معاملے پر رائے یکساں نہ ہو سکی۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی وفد نے ایران کے ساتھ مثبت بات چیت کی، لیکن ایران کی جانب سے رویہ مناسب نہیں تھا۔ ان کے بقول پیر کی صبح انہیں متعلقہ افراد کی جانب سے رابطہ کیا گیا اور ایران معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ باقی معاملات پر بھی اتفاق ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے لیے ایران نے خود رابطہ کیا اور پیغام دیا کہ وہ جلد از جلد سمجھوتہ چاہتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ گزرگاہ دنیا کے لیے نہایت اہم ہے، متعدد ممالک نے ایران کی ناکہ بندی میں تعاون کی پیشکش کی، تاہم اس مقصد کے لیے کسی کی مدد درکار نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز آبنائے ہرمز سے 34 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایران کے افزودہ یورینیم کو کسی نہ کسی طریقے سے حاصل کر لیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور کسی ملک کو دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
