امریکی بحریہ نے خلیج فارس کے علاقے میں اپنے ایک نہایت جدید اور انتہائی مہنگے جاسوس ڈرون کی تباہی کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے اسے ابتدائی طور پر ایک حادثہ قرار دیا ہے، تاہم مختلف غیر ملکی ذرائع اس واقعے کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہوئے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مذکورہ طیارہ ممکنہ طور پر ایرانی فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کا نشانہ بنا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کا یہ جدید نگرانی طیارہ 9 اپریل کو خلیج فارس کے فضائی حصے میں تباہ ہوا، جس کے بعد امریکی حکام نے اسے محض ایک حادثاتی صورتحال قرار دیا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے اس واقعے کی اصل وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیلی وضاحت تاحال سامنے نہیں آئی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق واقعے سے قبل یہ جاسوس ڈرون اچانک فضائی نگرانی اور پرواز سے متعلق آن لائن نظاموں سے غائب ہو گیا تھا، جس کے بعد متعدد غیر مصدقہ رپورٹس میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ اسے ایرانی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔ اگرچہ اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی، لیکن اس واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
On its way back to base, the US Navy MQ-4C Triton reconnaissance drone that had been patrolling the Strait of Hormuz took a turn towards Iran, squawked code 7700 (general emergency), and started descending, falling off ADS-B as it dropped under 10k feet. pic.twitter.com/1Ki8OsEk9k
— OSINTtechnical (@Osinttechnical) April 9, 2026
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے سے کچھ دیر قبل اس طیارے کی پرواز میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی، جس کے دوران وہ تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے آتے ہوئے 10 ہزار فٹ سے بھی کم سطح پر آ گیا۔ اسی دوران اس کی جانب سے ہنگامی نوعیت کے اشارے بھی ارسال کیے گئے، جن میں ابتدائی طور پر رابطے میں خرابی اور بعد ازاں مکمل ہنگامی صورتحال کا پیغام شامل تھا۔
یہ جدید نگرانی طیارہ انتہائی مہنگی عسکری ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے، جس کی مالیت تقریباً 23 کروڑ 50 لاکھ سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اپنی غیر معمولی قیمت کے باعث اب تک اس نوعیت کے صرف 20 طیارے ہی عملی خدمات میں شامل کیے گئے ہیں، یہ طیارہ طویل فاصلے تک سمندری اور فضائی نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے اور 13 ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے تک مسلسل پرواز کرتے ہوئے وسیع علاقوں پر نظر رکھنے کی استعداد رکھتا ہے۔ اس میں نصب جدید ریڈار نظام، بصری اور حرارتی سینسرز اسے سمندر میں موجود جہازوں اور دیگر اہم اہداف کی شناخت کی بھرپور صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
امریکی بحریہ کے مطابق یہ نگرانی طیارہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے حساس سمندری راستوں میں اپنی نگرانی کی ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد اٹلی میں واقع اپنے فضائی اڈے کی جانب واپس جا رہا تھا کہ اسی دوران یہ حادثہ پیش آیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی مختلف عسکری اور سیاسی عوامل کے باعث کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے، اور اس تازہ پیش رفت نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
