English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی سینیٹ نے ایران اور اسرائیل سے متعلق اہم پالیسی بلز کو مسترد کر دیا

القمر

واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس کی پیشگی اجازت لازمی قرار دینے کی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ووٹنگ کے دوران 52 سینیٹرز نے اس اقدام کی مخالفت کی جبکہ 47 ارکان نے اس قرارداد کی حمایت میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جاری آپریشن ایپک فیوری کے تسلسل کے لیے کانگریس سے منظوری کی ضرورت تھی۔ وار پاورز ایکٹ 1973 کے تحت صدر کو فوجی اقدامات کے لیے کانگریس کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

دوسری جانب سینیٹ میں اسرائیل کو فوجی امداد کی فراہمی روکنے سے متعلق بلز پر بھی رائے شماری کی گئی۔ برنی سینڈرز کی قیادت میں پیش کردہ ان بلز کا بنیادی مقصد اسرائیل کو بلڈوزرز اور بھاری بموں کی سپلائی کو روکنا تھا جس میں انہیں ناکامی ہوئی۔

بلڈوزرز کی فراہمی روکنے کی قرارداد کے حق میں 40 سینیٹرز نے ووٹ دیے جبکہ 59 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اسی طرح ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی فراہمی روکنے کی تجویز کو بھی ایوان میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہو سکی اور اس کے حق میں صرف 36 ووٹ پڑے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان اقدامات کو امریکا کی جانب سے اسرائیل کے لیے غیر مشروط فوجی اور سفارتی حمایت کو چیلنج کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا تھا، تاہم سینیٹ کی اکثریت نے ان تجاویز کو مسترد کر کے اپنی موجودہ خارجہ پالیسی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے حالیہ فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن فی الحال اپنی روایتی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

یاد رہے کہ ایران کے حوالے سے فوجی اختیارات اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون پر سینیٹ کی یہ رائے امریکی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

ان فیصلوں کے بعد اب ایران کے خلاف جاری آپریشن اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کا عمل موجودہ قوانین کے تحت بدستور جاری رہے گا۔ سینیٹ کا یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی ہے جس سے خارجہ امور میں صدر کے اختیارات کا دائرہ کار فی الحال محفوظ رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے