تہران: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ لبنان میں جاری جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا امریکا کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے واشنگٹن کو اپنی اسرائیل نواز پالیسیوں سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
باقر قالیباف نے واضح کیا کہ لبنان میں کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کی کامیابی کا دارومدار براہ راست حزب اللہ کی مستقل مزاحمت اور ان کی جدوجہد پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہر صورت میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور اس کے زیر اثر محور مزاحمت، جس میں حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی اور عراقی گروہ شامل ہیں، نظریاتی اور عملی اعتبار سے مکمل متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد میدان جنگ سے لے کر امن معاہدوں تک یکساں روح کے ساتھ برقرار ہے۔
ایرانی اسپیکر نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی اندھی حمایت خطے کے حالات کو مزید بگاڑ رہی ہے۔ اگر امریکا خطے میں حقیقی اور مستحکم امن لانا چاہتا ہے تو اسے اپنی اسرائیل فرسٹ کی پالیسی سے فوری طور پر پیچھے ہٹنا ہوگا۔
باقر قالیباف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کا واحد حل انصاف پر مبنی فیصلوں اور طاقت کے غلط استعمال کو روکنے میں مضمر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت خطے کے تمام مزاحمتی گروہوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گی۔
اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ لبنان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت بند ہونا عالمی امن کے لیے لازم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری کو بھی اسرائیل کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں کا نوٹس لیتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کروانی چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی ایسے امن عمل کا خیرمقدم کرتا ہے جو خطے میں خونریزی کو روکے اور مظلوم اقوام کے حقوق کا تحفظ کرے۔ خطے کا امن اسی وقت ممکن ہے جب بیرونی طاقتیں مداخلت بند کر کے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں۔
