ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے، اس اہم بحری گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت ایران کے مقررہ ضوابط اور اجازت سے مشروط ہوگی، بصورت دیگر اس راستے کو کھلا رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
باقر قالیباف کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ہی گھنٹے کے دوران سات ایسے دعوے کیے جو حقیقت کے برعکس ثابت ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے بے بنیاد بیانات نہ تو جنگی محاذ پر کامیابی دلا سکتے ہیں اور نہ ہی مذاکراتی عمل میں کوئی مثبت پیش رفت ممکن بنا سکتے ہیں۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے کھلے یا بند رہنے کا فیصلہ کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نہیں بلکہ عملی میدان میں طے ہوگا، جنگ صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہتی بلکہ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنا بھی اس کا ایک اہم پہلو ہوتا ہے، تاہم ایرانی قوم اس طرح کے حربوں سے مرعوب ہونے والی نہیں۔
انہوں نے مذاکرات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر بھی شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مستند اور حقیقی مؤقف جاننا چاہتا ہے تو اسے ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے انٹرویوز سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ غیر مصدقہ اطلاعات محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔
