اسلام آباد : پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل وسیع پیمانے پر تیاریاں شروع کردی گئیں۔ 2 امریکی طیارے پاکستان لینڈ کرگئے۔
الجزیرہ کے مطابق تہران اور واشنگٹن کی جانب سے سخت بیان بازی کے باوجود تمام اشارے یہ بتاتے ہیں کہ مذاکرات کا دوسرا دور جلد ہونے کا امکان ہے۔
ہوٹلوں کی انتظامیہ کو کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مہمانوں کو وہاں سے جانے کو کہیں کیوں کہ اسلام آباد کے ان دونوں بڑے ہوٹلوں میں نئی بکنگ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں جہاں 2امریکی C17 گلوب ماسٹرز کے نور خان ایئربیس پر اترنے کے بعد ریڈ زون تک جانے والی سڑک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں کہا کہ دارالحکومت میں تمام ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں پر پابندی لگا دی جائے۔
ہر چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مذاکرات جمعے سے پہلے اسلام آباد میں ہوں گے اور ہم تیاریوں میں آنے والی اس سلسلے میں تیزی دیکھ بھی سکتے ہیں، ان مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے ابھی زمینی کام کیا جا رہا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے دوران سکیورٹی کے لیے تقریباً 20 ہزار سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات ہوں گے، جن میں صوبہ پنجاب کی پولیس، نیم فوجی رینجرز فورسز، اسلام آباد پولیس اور فوج شامل ہیں۔
سکیورٹی فورسز کے یہ سب اہلکار مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران وفاقی دارالحکومت کے لیے سکیورٹی فراہم کریں گے۔
