English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایرانی سپریم لیڈر زخمی حالت میں قاصدوں کے ذریعے حکومتی امور چلا رہے ہیں، میڈیا رپورٹس

القمر

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک فضائی حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے کے بعد طبی نگرانی میں ہیں، تاہم وہ مسلسل ہوش میں ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، وہ عوامی منظر نامے سے غائب رہنے کے باوجود حکومتی امور میں متحرک ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای تک رسائی انتہائی محدود کر دی گئی ہے تاکہ انہیں اسرائیلی اور امریکی نگرانی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ حکام ان تک براہِ راست جانے کے بجائے ہاتھ سے لکھے ہوئے پیغامات قاصدوں کے ذریعے پہنچا رہے ہیں، جن کا جواب وہ تحریری طور پر دیتے ہیں۔

ملک کے اہم فیصلے اب عملی طور پر پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈروں پر مشتمل ایک گروپ کے پاس ہیں، جو ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرح کام کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ کمانڈرز دفاعی اور خارجہ پالیسی کے اہم معاملات میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں ہونے والے اس حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای اپنے عسکری رفقا سمیت شہید ہوگئے تھے۔ تب سے ملک کا انتظامی ڈھانچہ عسکری قیادت کے گرد گھوم رہا ہے جو پالیسیوں کو حتمی شکل دیتی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے تجاویز سپریم لیڈر کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ ان کی رائے کو ہر معاملے میں حتمی حیثیت حاصل ہے، اسی لیے کوئی بھی بڑا قدم ان کی منظوری کے بغیر نہیں اٹھایا جا رہا۔

رپورٹس کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پس منظر میں چلے گئے ہیں جبکہ مذاکرات کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کی موجودہ حکمت عملی مکمل طور پر سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ہے جو سپریم لیڈر کے احکامات کی روشنی میں کام کر رہی ہے۔

اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی حالت میں ہیں، مگر حکومتی نظام میں کوئی تعطل پیدا نہیں ہوا ہے۔ تمام اہم فیصلے اب بھی باقاعدہ مشاورت اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں کی نگرانی میں لیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کے داخلی اور خارجی معاملات کو کسی بھی بڑے بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے