ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، تیل کی عالمی سپلائی تاحال شدید خطرات کی زد میں

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے پیش کیے گئے منصوبے کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل مستحکم ہیں اور ان میں کسی قسم کی بڑی گراوٹ دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 108 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ پر بدستور شدید دباؤ ہے۔ آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں میں تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی فوجی کمانڈ سینٹکام نے پروجیکٹ فریڈم کے تحت جہازوں کو مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم سیکیورٹی اسکواڈ کی تفصیلات واضح نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں اطمینان پیدا نہیں ہو سکا اور خدشات بدستور اپنی جگہ موجود ہیں۔

ایرانی حکام نے امریکی منصوبے میں تعاون کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور یہ اقدامات کشیدگی بڑھائیں گے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یہ توانائی بحران جدید تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ محض سیاسی بیانات یا اعلانات سے تیل کی سپلائی بحال نہیں ہو سکتی، بلکہ عملی اقدامات اور سیکیورٹی کی ضرورت ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک عالمی تیل کی یومیہ پیداوار میں 14.5 ملین بیرل کی بھاری کمی واقع ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد 129 سے کم ہو کر چند درجن تک محدود ہو چکی ہے۔

اگرچہ عالمی منڈی کو آنے والے ہفتوں میں بہتری کی امید ہے، تاہم انفرااسٹرکچر کی تباہی اور مستقل سیکیورٹی خدشات کے باعث قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں