واشنگٹن: امریکا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے باعث 81 فیصد شہری مالی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ اکثریت نے اس صورتحال کا ذمہ دار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا ہے۔
این آر پی، پی بی ایس نیوز اور مارسٹ پول کے مطابق ہر 10 میں سے 8 امریکیوں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھریلو بجٹ پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔
سروے میں 19 فیصد افراد نے کہا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے ان کی زندگی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
27 سے 30 اپریل کے دوران کیے گئے اس جائزے میں 63 فیصد امریکیوں نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہرایا، جبکہ 37 فیصد افراد نے انہیں کم ذمہ دار قرار دیا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکا میں جمعرات کے روز گیسولین کی قیمت بڑھ کر 4 ڈالر 56 سینٹ فی گیلن تک پہنچ گئی، جبکہ ایران جنگ شروع ہونے سے قبل یہی قیمت 2 ڈالر 98 سینٹ فی گیلن تھی۔
