English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر جلد 17 ارب ڈالر کی سطح عبور کر لیں گے، گورنر اسٹیٹ بینک

القمر

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام لانے کے لیے گزشتہ ساڑھے 3 برسوں کے دوران اوپن مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر کی بھاری خریداری کی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف رواں مالی سال کے دوران 4.5 ارب ڈالر مارکیٹ سے حاصل کیے گئے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اپریل میں 5 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے باوجود ملکی ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ ذخائر جلد 17 ارب ڈالر کی حد پار کر لیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی بینک کی جانب سے ڈالر کی یہ خریداری زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے انتہائی ضروری تھی۔

اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کو چین سے پانڈا بانڈز کے اجرا کے لیے حتمی ریگولیٹری منظوری مل چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ 10 روز کے اندر 25 کروڑ ڈالر مالیت کے بانڈز جاری کر دیے جائیں گے، جس سے معاشی بہتری کے عمل کو مزید تقویت ملے گی۔

معاشی نمو کے حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے کچھ معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم مجموعی معاشی کارکردگی گزشتہ برس کے مقابلے میں بہتر رہے گی۔

کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت بنیادی بجٹ سرپلس اور خسارے کے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باوجود پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر فی الحال کوئی منفی اثرات نہیں پڑے ہیں۔ حکومت رواں مالی سال کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لے گی۔

آخر میں مہنگائی سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 6 سے 8 فیصد مہنگائی کے ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے شرح سود کے حوالے سے تمام فیصلے انتہائی محتاط انداز میں کیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے