اسلام آباد: آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ آج ایک اہم اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی نئی قسط کی منظوری متوقع ہے۔
یہ پیشرفت پاکستان کی جانب سے معاشی اصلاحات اور طے شدہ شرائط کی تکمیل کے بعد سامنے آئی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ پاکستان کا اسٹاف لیول معاہدہ 27 مارچ کو طے پایا تھا۔ اب ایگزیکٹو بورڈ تیسرے اقتصادی جائزے کی باقاعدہ منظوری دے گا، جس سے ملکی معاشی استحکام کے لیے درکار اس بیرونی فنڈنگ کی فراہمی کا عمل یقینی طور پر شروع ہو سکے گا۔
اجلاس میں قرض کی قسط کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے کی منظوری بھی متوقع ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو مزید 200 ملین ڈالر ملنے کا قوی امکان ہے جو موسمیاتی منصوبوں میں معاون ثابت ہوں گے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی وصولیاں اپنے مقررہ اہداف سے زائد ہونے کی توقع ہے، تاہم عالمی ادارہ حکومت پر مسلسل زور دے رہا ہے کہ توانائی اور دیگر شعبوں میں دی جانے والی سبسڈی کو کم یا مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
حکومتی نمائندوں نے آئی ایم ایف کو مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے اور مہنگائی کی شرح میں بھی کمی ہوئی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث ملکی معیشت کو خطرات لاحق ہیں۔
عالمی مالیاتی اداروں کے حالیہ اجلاسوں کے دوران پاکستان نے کلائمٹ ایکشن اور ماحولیاتی منصوبوں پر اپنا مضبوط مؤقف پیش کیا ہے۔ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ آئندہ قومی بجٹ میں کلائمٹ پالیسیوں کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا تاکہ ماحولیاتی فنڈنگ کے حصول کو مزید آسان بنایا جا سکے۔
یہ مالی امداد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کا یہ اقدام ملکی معیشت پر عالمی برادری کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا اور پاکستان کے لیے دیگر بین الاقوامی مالی ذرائع کے دروازے کھل سکیں گے۔
