ابوظبی: گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک اہم اعلان کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگلے 2 سال میں حکومتی شعبے مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے چلائے جائیں گے۔ مقامی میڈیا کے مطابق امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے ایک حکومتی ماڈل تیار کر لیا ہے ، جس کے تحت ملک کے سرکاری نظام میں مصنوعی ذہانت کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے گا۔ اعلیٰ حکام کے احکامات کے تحت آئندہ 2 سال میں حکومتی شعبے، خدمات اور آپریشنز ایسے جدید خودکار نظاموں کے ذریعے چلائے جائیں گے جو فیصلے کرنے اور عمل درآمد کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مذکورہ حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ایک معاون ٹول نہیں رہی بلکہ یہ معلومات کا تجزیہ کرے گی، فیصلے کرے گی، ان پر عمل کرے گی اور نظام کو مسلسل بہتر بنائے گی۔
