ایران نے امریکا کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز پر غور جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران تمام نکات کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے اور مناسب وقت پر اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گا، حتمی فیصلہ ہونے کے بعد ہی باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
اپنے تازہ بیان میں ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکی تجاویز مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہیں جن کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جا رہا ہے، ایران کسی بھی فیصلے میں قومی مفادات، علاقائی صورتحال اور سفارتی تقاضوں کو مدنظر رکھے گا جبکہ پیش رفت سے متعلق معلومات مناسب مرحلے پر عوام اور ذرائع ابلاغ کے سامنے لائی جائیں گی۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے “تسنیم” کے مطابق اسماعیل بقائی نے گزشتہ شب امریکا کے ساتھ پیش آنے والی فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے واشنگٹن پر جنگ بندی کے تقاضے نظر انداز کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکی اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں، ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر متحرک اور چوکس ہیں اور ملکی سلامتی کے خلاف کسی بھی ممکنہ اقدام کا فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اگر کسی قسم کی جارحیت یا عسکری مہم جوئی کی گئی تو ایران اس کا سخت ردعمل دے گا۔
اسماعیل بقائی نے اس بات پر زور دیا کہ تہران خطے میں استحکام اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی خودمختاری اور دفاع کے معاملے پر کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاری موجود ہے۔
