یروشلم کی ایک یونیورسٹی میں منعقدہ نقبہ ڈے تقریب کے دوران اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطینی طلبہ کو دھمکیاں دیے جانے کے بعد نئی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تقریب 1948 میں لاکھوں فلسطینیوں کی بے دخلی کی 78ویں برسی کے موقع پر منعقد کی گئی تھی، جہاں فلسطینی طلبہ نے اپنی تاریخ، شناخت اور جبری بے دخلی کی یاد تازہ کرنے کے لیے اجتماع کیا۔
رپورٹ کے مطابق انتہا پسند اسرائیلی آبادکار اور رکنِ پارلیمنٹ زوی سکوت تقریب کے دوران مقام پر پہنچے اور شریک طلبہ کو طور پر براہِ راست دھمکیاں دیں، جن میں تشدد کی دھمکیاں بھی شامل تھیں۔
تقریب کے منتظم طلبہ گروپ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اس نوعیت کی دھمکیاں فلسطینی طلبہ کو اپنی تاریخ، شناخت اور حقِ وابستگی سے دستبردار نہیں کر سکتیں۔ طلبہ کے مطابق اسرائیلی جامعات میں فلسطینی طلبہ کے خلاف دباؤ اور اشتعال انگیزی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
طلبہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ہر صورت نقبہ کی یاد مناتے رہیں گے اور اپنے عوام کی داستان آئندہ نسلوں تک پہنچاتے رہیں گے، دباؤ، دھمکیوں اور سیاسی اختلافات کے باوجود فلسطینی شناخت اور تاریخ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ قبہ سے مراد 1948 کی وہ تاریخی صورتحال ہے جب اسرائیل کے قیام کے دوران لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں اور زمینوں سے بے دخل ہوئے تھے۔ فلسطینی عوام ہر سال اس دن کو یومِ نقبہ کے طور پر یاد کرتے ہیں جبکہ اسرائیل میں اس معاملے پر شدید سیاسی اور نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں۔
