پشاور کی سیشن عدالت نے 10 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عرفان سلیم سمیت 74 افراد کو بری کر دیا ہے، جس کے بعد کیس قانونی طور پر اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج فراز احمد نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا کہ مقدمے میں نامزد کیے گئے افراد کو براہِ راست وقوعہ کے وقت شناخت نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ان کے نام بعد ازاں تفتیشی مراحل کے دوران شامل کیے گئے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملزم کے خلاف شناختی پریڈ کا عمل مکمل نہیں کیا گیا، جو فوجداری مقدمات میں ایک بنیادی اور اہم قانونی تقاضا سمجھا جاتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیا گیا مقدمہ ٹھوس شواہد کے بجائے محض زبانی دعوؤں اور غیر مصدقہ الزامات پر مبنی ہے۔
عدالتی دستاویز کے مطابق کیس میں کسی چشم دید گواہ کی موجودگی ثابت نہیں ہو سکی، جس کے باعث الزامات کو قانونی طور پر ثابت کرنا ممکن نہیں رہا۔
مزید یہ بھی کہا گیا کہ متاثرہ فریق کے ورثا کی جانب سے بھی مقدمے کو آگے بڑھانے میں عدم دلچسپی ظاہر کی گئی۔
فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں ٹرائل کو جاری رکھنا عدالتی وقت اور وسائل کا ضیاع ہوگا، لہٰذا تمام نامزد ملزمان کو بری کرنے کا حکم جاری کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ 10 مئی کو پشاور کے علاقے فقیر آباد میں احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے تھے، جن کے دوران فائرنگ سے دو افراد جاں بحق ہو گئے تھے، اور اسی واقعے کے تحت تھانہ فقیر آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
