کراچی:سندھ حکومت کراچی کے شہریوں کو سفری سہولت فراہم کرنے میں ناکام،پیپلز بس سروس تباہی کیجانب گامزن گلشنِ حدید بس ٹرمینل پر 52 کروڑ روپے مالیت کی 15بسیں ناکارہ ہوکرخراب حالت میں کھڑی کردی گئی ہیں۔کراچی میں ٹرانسپورٹ کا پہلے ہی کوئی نظام موجود نہیں ہے۔اس پرگلشن حدید ٹرمینل پر متعدد بسیں خراب کھڑی ہیں کسی بس کی مشینری خراب ہے تو کسی کا ائیر کنڈیشنڈ خراب ہے تو کسی کے ٹائر ہی غائب کردیے گئے. کروڑوں روپے مالیت کی بسیں ناکارہ کھڑی ہیں۔
بسوں کی کمی کے باعث شہریوں کو طویل انتظار اور شدید رش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کی عدم توجہی بدانتظامی اور ناقص دیکھ بھال کے باعث ناکارہ ہونے والی بسیں گلشن حدید بس ٹرمینل پر کھڑی ہیں۔ ان بسوں کی مرمت نہ ہونے کے سبب ٹرانسپورٹ کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس سے مسافروں کو پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
ناکارہ پیپلز ریڈ بسیں کھڑی ہونے سے عام شہریوں کو سفر کے لیے طویل انتظار اور شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مرمت کا فقدان بروقت فنڈز کی عدم دستیابی اور بروقت دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ بسیں کباڑ میں تبدیل ہو رہی ہیں۔
گلشن حدید کے رہائشیوں نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم شہریوں کے لیے پیپلز بسیں سہولت کے بجائے ایک بڑی زحمت بن گئی ہے گلشن حدید سے ٹاور تک چلنے والی روٹ نمبر R-9 پر چلنے والی پیپلز ریڈ بسیں اس وقت سندھ حکومت کے غفلت کی بدترین مثال پیش کر رہا ہے 52 کروڑ روپے سے زایدمالیت کی بسیں دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ٹرمینل پر کھڑے کھڑے کباڑ بن رہی ہیں۔
متعدد بسوں کی مشینری نکال لی گئی ہے اور کچھ کے تو ٹائر تک غائب ہیں بسوں کی اس کمی کا خمیازہ شاہراہِ فیصل سے گلشن حدید تک سفر کرنے والے مسافروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جنہیں گھنٹوں انتظار کے بعد ایسے بسوں میں سوار ہونا پڑتا ہے جہاں تل تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی خواتین بچے اور بزرگ ذلت آمیز سفر پر سندھ حکومت کو دہائیاں دے رہے ہیں گلشن حدید کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پیپلز ریڈبسوں کو فوری مرمت کروا
کر روٹ پر بسوں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ عوام کا ٹیکس عوام کی سہولت پر خرچ ہو سکے۔
واضح رہے روٹ نمبر آر۹ گلشن حدید تا ٹاور کے لیے ۲۰۲۲ میں ۳۰ پیپلز ریڈ بسیں چلائی گئی تھیں ایک بس کی مالیت ساڑھے تین کروڑ روپے بنتی ہے اس طرح ۱۵ بسیں ناکارہ ہونے کے بعد بس ٹرمینل پر کھڑی کردی گئی ہیں جس کی مالیت ۵۲ کروڑ روپے بنتی ہے ۔
