English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فوج سعودیہ بھیجنے کا معاملہ ۔۔ وزیردفاع سے جواب طلب

القمر

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان فوجی دستےسعودیہ بھیج رہا ہے۔ ٹروپس کی تعداد ایک ڈویژن سے کم ہو گی۔ اعلان سعودی سفیر کی آرمی چیف سے ملاقات کے بعد سامنے آیا جبکہ رواں ماہ آرمی چیف نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیرِ دفاع کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے پیر کو جواب دیا جائے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے پاک فوج سعودی عرب فوج بھیجنے سے متعلق بیان پر چئیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے وزیرِ دفاع خرم دستگیر سے جواب طلب کر لیا ہے۔

کنٹرول لائن کے قریب ہوائی اڈے اور چھاؤنیاں بنائی جا رہی ہیں ،پڑوسی ملک کو اب مذاکرات کی دعوت نہیں دی جا سکتی 
وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ بھارت کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن پر عمل کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے اور موودی سرکار نے پاکستانی سرحد کے قریب چھانیاں بنا کر بارود جمع کرنا شروع کردیا ہے، تاہم اگر بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی گئی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارت نے سرحدوں اور کنٹرول لائن کے بہت قریب ہوائی اڈے اور چھاؤنیاں بنانا شروع کردی ہیں جبکہ گولہ بارود بھی جمع کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مذاکرات کا موقع ضائع کردیا اور موجودہ صورتحال میں بھارت کو مذاکرات کی دعوت نہیں دی جاسکتی جبکہ اگر پاکستان کی جانب سے بھارت نے کسی بھی جارحانہ کارروائی کی کوشش کی تو اس کو کرارا جواب ملے گا۔جماعت الدعو کے سربراہ حافظ سعید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے میں قانون کے مطابق مقدمہ ہوگا تو اس پر ضرور عملدرآمد کیا جائے گا۔ اس سے قبل وزیر دفاع خرم دستگیر نے سینیٹ میں بھی پالیسی بیان دیتے ہوئے بتایا تھا کہ بھارت کی موجودہ حکومت کی جانب سے غیر معمولی دشمن جیسا رویہ اور پاکستان مخالف اقدام نے امن کے لیے پیدا ہونے والے عمل کو مسلسل کم کردیا۔انہوں نے بتایا تھا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے اس وقت امن کا موقع کھویا گیا، جب بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان میں سیاسی اتفاق رائے موجود تھا۔وزیر دفاع نے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن، بھاری فوجی مشقیں اور امن عمل میں تبدیلی پاکستان کی جانب نئی دہلی کے جارحانہ رویے کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر فائرنگ اور گولہ باری میں اضافہ کیا گیا اور پاکستان مخالف اقدامات بھی بڑھ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے