English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ننھی زینب کے قاتل عمران کو 4 بار سزائے موت کا حکم،20لاکھ روپےجرمانہ

لاہور: انسداد دہشت گردی لاہور کی خصوصی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر پاکستان کی ننھی پری زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم عمران علی کو چار بار سزائے موت دینے جبکہ 20 لاکھ روپے جرمانہ،عمر قید، لاش چھپانے پر سات سال قید کا حکم دیدیا ہے۔ ملزم کا کوٹ لکھپت جیل میں ٹرائل مکمل کیا گیا تھا ، اس لئے فیصلہ بھی کوٹ لکھپت جیل میں ہی سنایا گیا ہے ۔

انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے جج سجاد احمد نے عمران علی کے خلاف یہ فیصلہ سنایا ہے۔ مجرم عمران کو قتل کرنے پر سزائے موت، اغوا کرنے پر سزا ئے موت، ریپ پر سزائے موت ، انسداد دہشت گردی کے تحت سزا ئے موت ،بد فعلی پر عمر قید اور لاش کو گندگی کے ڈھیر میں چھپانے پر 7 سال سزا سنائی گئی ہے۔ زینب کے والد محمد امین اور دیگر رشتہ دار بھی فیصلہ سننے کیلئے کوٹ لکھپت جیل میں موجود تھے۔سپریم کورٹ نے ملزم عمران علی کے خصوصی ٹرائل کا حکم دیا تھا جس کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل مکمل کرتے ہوئے ملزم عمران علی کو سزائے موت سنائی ہے ۔ملزم علی عمران کو 23جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا۔

زینب کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے برآمد کی گئی تھی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جنسی درندےنے سات سالہ زینب کو زیادتی کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا ، رپورٹ کے مطابق زینب کے جسم کو نوچنے کے نشانات بھی موجود تھے۔

ملزم عمران علی نے قصور کی کمسن زینب کو والدین سےملوانے کے بہانے اپنے ساتھ لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا، قصور پولیس کے مقامی افسران کی ملی بھگت سےشہر میں کمسن بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعدقتل کرنے کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے لیکن جب میڈیا نے زینب قتل کیس پر آواز اٹھائی تو پھر سپریم کورٹ ، پنجاب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام ادارے حرکت میں ا گئے ، اس سے پہلے یہ تمام ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے تھے۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں پراسکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے اس ہائی پروفائل قتل کا ٹرائل خود اپنی نگرانی میں مکمل کروایا، ڈپٹی پراسکیوٹر وقار عابد بھٹی کا کہنا ہے کہ ملزم عمران علی نے اعتراف جرم کیا ہے، ملزم علی عمران کو ابھی صرف زینب قتل کیس میں سزا سنائی گئی ہے، باقی7بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انہیں قتل کرنے کے مقدمات میں ملزم کو سزا ہونا ابھی باقی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آٹھ کمسن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم عمران کا ٹرائل چار روز یعنی 96گھنٹوں میں مکمل ہوا۔ ملزم عمران کے وکیل مہر شکیل نے مقدمے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے اعتراف جرم کے بعد اس کا ضمیر سفاک قاتل کا کیس لڑنے کی اجازت نہیں دے رہا۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ حکومت پنجاب کی خاص توجہ کی وجہ سے ملزم کو گرفتار کیا گیا عدالتی تاریخ میں خوش آئند ہے کہ پہلی بار سائنٹفک شواہد کی بنیاد پر سزا دی گئی ہےملزم نے ٹرائل شروع ہونے پر نہ صرف زینب بلکہ تمام بچیوں کے جرم کا اعتراف کیا تھاپراسکیوشن نے فیئر ٹرائل کو موقع دیا۔

ملزم کو اپیل کیلئے 15 دن کا وقت دیا گیا ہے،سیریل کلر نے 9 بچیوں سے زیادتی کی 7 بچیوں کی موت ہو چکی ہے، 2 بچیاں زندہ ہیں،ملزم نے آخر پر کہا تھا کہ اس نے خود ہی قتل کیاملزم کو حق حاصل ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل ہائیکورٹ میں دائر کر سکتا ہے،

عدالت نے حکم دیا ہے کہ مجرم کو جان نکلنے تک تختہ دار پر لٹکایا جائے، زینب کے والد عدالت کے فیصلے پر مطمئن نظر آئے اور کہا کہ میری بیٹی کے قاتل کو آخری سانس تک پھانسی پر لٹکایا جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے