بھارتی ہٹ دھرمی نے لاکھوں کشمیریوں کی زندگی جہنم بنادی، گھروں میں محصور افراد کھانے پینے کی اشیاء کیلئے ترس گئے
کشمیر میں اب تک پندرہ سو احتجاجی مظاہرے کئے جاچکے ہیں، بھارتی فوج گھروں سے نکلنے والوں کو نشانہ بنارہی ہے
سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 24 ویں روز بھی کرفیو نافذ رہا، بھارتی ہٹ دھرمی نے لاکھوں کشمیریوں کی زندگی جہنم بنا دی، گھروں میں محصور افراد کھانے پینے کی اشیا کے لیے ترس گئے۔ خوراک اور دوائیں ختم ہوگئیں، لوگوں نے کرفیو توڑ کر بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور قابض فورسز پر پتھرائو کیا۔ جواب میں ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کر لیا گیا، بھارتی فوج گھروں سے باہر نکلنے والوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنا رہی ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں مظاہرین زخمی ہوگئے۔ فرانسیسی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ وادی کی خودمختاری کو ختم کرنے، وہاں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود 500 احتجاجی مظاہرے کیے جاچکے ہیں جن میں نصف سے زیادہ سری نگر میں ہوئے۔ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ناکہ بندی کے بغیر مظاہروں کی تعداد زیادہ اور بڑی ہو سکتی ہے کیونکہ عوامی مخالفت اورغصے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہر وقت کوششیں کی جارہی ہیں لیکن ابھی یہ سب کچھ کام کرنا نظر نہیں آرہا جبکہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ میں اضطراب پھیل رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہاکہ مواصلاتی رابطوں کے معطل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز کو دیہی علاقوں سے متعلق معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
خوراک ادویات ختم ہوگئیں کشمیریوں نے کرفیو توڑ دیا، ہزاروں گرفتار
القمر

