English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایمنسٹی انٹرنیشنل ٗ کشمیر کو بولنے دو کے نام سے عالمگیر مہم شروع

القمر

کشمیر میں کرفیوں کے خاتمے کیلئے مہم شروع کردی گئی ہے ٗ کشمیریوں کے فلک شگاف نعروں سے بھارتی فوجی بوکھلائے ہوئے ہیں
سرینگر/نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی فوج کے وحشیانہ مظالم، کرفیو اور قید و بند کے 34 ویں روز بھی مقبوضہ کشمیر میں زندگی مفلوج ہے جبکہ غذائی قلت اور ادویات کا بحران بھی بدترین شکل اختیار کر چکا ہے تاہم کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ بھارت کے خلاف بلاناغہ احتجاج کیا جارہا ہے۔ کشمیری تمام پابندیوں کو توڑتے ہوئے باہر نکلتے ہیں اور ان کے فلک شگاف نعروں سے بھارتی فوجی بوکھلائے ہوئے ہیں اسی دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’’کشمیر کو بولنے‘‘ کے نام سے کرفیو کے خاتمے کے لیے عالمگیر مہم شروع کردی جس میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کو اجاگر کیا جائے گا۔ ہیش ٹیگ LetkashmirSpeak’# کے تحت ٹوئٹر پر بنائے گئے پیج پر جاکر کوئی بھی شخص اپنے نام اور ای میل ایڈریس کے ذریعہ مقبوضہ کشمی کے گورنر ستیاپال ملک کو ای میل کرکے ان سے کشمیر میں پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرسکے گا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ آکارپٹیل نے گورنر ستیاپال ملک کو ایک خط بھی لکھا جس میں انہوں نے ریاست سے پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رابطوں پر پابندی کشمیریوں کی شہری آزادی پر بدترین حملہ ہے، ایک مہینہ ہونے کو آیا خیریت کی کوئی خبر نہیں سنی۔ ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی کے باعث وہاں کے 80 لاکھ افراد کی زندگی پٹڑی سے اتر گئی ہے انہیں صحت، اشیائے خورونوش اور ہنگامی سروسز تک کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ پوری آبادی کو آزادی اظہار رائے سے روکنا اور غیر معینہ مدت کے لیے ان کی نقل و حمل پر پابندی عائد کردینا خطے کو تاریک دور میں لے جانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’نیا کشمیر‘ کشمیریوں کے بغیر تعمیر نہیں ہو سکتا اس ملک نے کشمیریوں کو ابھی تک نہیں سنا، ہم کہنا چاہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ انہیں یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ لوگوں کو ہنگامی صورتحال کے باوجود اسپتالوں تک نہیں پہنچایا جارہا، وہاں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہو رہی ہیں بچوں اور نوجوانوں کو رات گئے اندھیرے میں اٹھایا جارہا ہے، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ مظاہرین پر آنسو گیس اور پیلٹ گنز کا بے جا استعمال کیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے