نئی دہلی، 25ستمبر(ساؤتھ ایشین وائر): ستمبر میں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والی خواتین کی تنظیموں کی رہنماؤں نے انکشاف کیا ہے کہ کشمیر میں لاک ڈان کے دوران 13000نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔
مختلف تنظیموں کی خواتین رہنماؤں نے منگل کے روزایک رپورٹ جاری کی ، جس میں مسلم اکثریتی وادی میں زمینی حالات کی وضاحت کی گئی اور مواصلاتی لائنوں اور آرٹیکل 370 اور 35 اے کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق دہلی پریس کلب میں تقریر کرتے ہوئے ، پانچ خواتین نے گذشتہ 52دنوں سے لاک ڈان کے تحت ہمالیہ کے خطے کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا اور متعلقہ شہریوں کے ساتھ اپنے تجربات اور مشاہدات کا تبادلہ کیا۔
انہوں نے کہا ، "متعدد تصدیق شدہ ذرائع سے ہمیں گذشتہ 52 دنوں میں تقریبا13000نوجوانوں کے گرفتار ہونے کے بارے میں علم ہواہے۔” انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سری نگر اور شوپیاں ، پلوامہ اور بانڈی پورہ اضلاع کے متعدد دیہات کا دورہ کیا۔
اس رپورٹ میں ان بہت سارے لوگوں کی کہانیوں کو بیان کیا گیا ہے جن سے خواتین نے بات کی تھی ۔
”کشمیری نوجوانوں سے ان کی نفرت اتنی واضح ہے کہ جب کسی گھر کے دروازے پر خوفناک دستک ہوتی ہے تو جوانوں کی بجائے بزرگوں کو دروازہ کھولنے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ ”انہوں نے ایک مقامی کے حوالے سے بتایا۔
لوگ فوج سے اتنا زیادہ خوفزدہ ہیں کہ مقامی لوگوں میں سے ایک شخص نے خواتین کو بتایا کہ "ہم روشنی کے لئے بھی فون آن نہیں کر سکتے تاکہ چھوٹی بچی کو بیت الخلا میں لے جایا جاسکے۔”
"یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ہمارا گلا گھونٹ رہی ہے اور پھر افسوس کے ساتھ اسی وقت ہم سے بات کرنے کو کہتے ہیں ” ایک مقامی لڑکی نے ان خواتین کو بتایا ، جنھوں نے لکھا ہے کہ لڑکیوں نے شکایت کی کہ انہیں فوج نے اپنا نقاب ہٹانے سمیت متعدد طریقوں سے ہراساں کیا ہے۔”
خواتین نے کہا "وہ تمام لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صورتحال آہستہ آہستہ معمول کی طرف لوٹ رہی ہے ، مسخ شدہ حقائق کی بنیاد پر جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔”
خواتین رہنماؤںنے مزید مطالبہ کیا کہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک سمیت تمام مواصلاتی لائنوں کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہئے ، آرٹیکل 370 اور 35 اے کو دوبارہ نافذ کیا جانا چاہئے ، کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعہ مستقبل کے فیصلے کشمیریوں سے کیے جائیں ، فوج کے جوانوں کو ہٹایا جائے ، اوربھارتی فوج کی زیادتیوں کو جانچنے کے لئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
