English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈیموکریٹس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی باضابطہ کارروائی کا آغاز کر دیا

امریکہ کے ایوان نمائندگان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے حق میں ڈیموکریٹس کی تعداد میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے اور 235 میں سے 145 اراکین اس کے حق میں ہیں۔

جو بائیڈن نے امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔

جو بائیڈن اور ہنٹر بائیڈن

جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن (بائیں) یوکرائن کی سب سے بڑی گیس کمپنیوں میں سے ایک ’بوریزما‘ میں پرکشش تنخواہ حاصل کرنے والے ڈائریکٹر تھے

کہانی کا پس منظر

جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے یوکرین کی ایک قدرتی گیس کمپنی میں اس وقت بطور ڈائریکٹر خدمات انجام دیں جب ان کے والد سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے نائب صدر تھے۔ ان کا یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں اہم کردار رہا۔

یہ تنازع تب سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے یوکرین میں اپنے ہم منصب پر بائیڈن خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، جو کہ حالیہ دنوں میں واشنگٹن میں گرما گرم موضوع بنا ہوا ہے۔

اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ شکایات کس نے درج کروائی تھی مگر یہ معلوم ہے کہ یہ 12 اگست کو دائر کی گئی ہے۔

واشنٹگن پوسٹ نے دو سینئر امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کام کرنے والے ایک امریکی انٹیلیجنس عہدیدار نے ایک غیر ملکی رہنما اور ان سے کیے گئے صدر ٹرمپ کے ایک ‘وعدے’ کو اتنا تشویشناک پایا کہ انھوں نے انٹیلیجنس کے انسپکٹر جنرل کو اس کی شکایت کر ڈالی۔

اس شکایت کے دائر کیے جانے سے ڈھائی ہفتے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے یوکرینی ہم منصب سے فون پر گفتگو کی تھی۔

گذشتہ ہفتے یہ بات سامنے آئی کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اس شکایت کو کانگریس تک پہنچنے سے روک رہی تھی باوجود اس کے کہ انٹیلیجنس کے انسپکٹر جنرل نے اسے ‘فوری نوعیت’ کا حامل معاملہ پایا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کو میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 25 جولائی کو کی جانے والی کال ’مبارک باد‘ کی تھی مگر اس میں کرپشن کا تذکرہ کیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے لوگ، مثلاً نائب صدر بائیڈن اور ان کے بیٹے یوکرائن میں پہلے سے موجود کرپشن میں اپنا حصہ ڈالیں۔‘

مگر ان کا اصرار تھا کہ انھوں نے ’کچھ بھی غلط نہیں کیا تھا۔‘

اس سے قبل وہ اس نامعلوم شکایت دہندہ کو ’جانبدار‘ قرار دیتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ غیر ملکی رہنماؤں کو کی جانے والی ان کی تمام کالز امریکی انٹیلیجنس ادارے سنتے ہیں۔

اتوار کو ہی صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹس میں ان خبروں کو ’جعلی‘ قرار دیتے ہوئے جو بائیڈن پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے یوکرین میں اپنے بیٹے کی کمپنی کے خلاف تحقیقات کرنے والے تفتیش کار کو یوکرین کے لیے امریکی امداد بند کرنے کی دھمکی دے کر نکلوایا تھا۔ انھوں نے لکھا ’یہ ہے اصل کہانی۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے