نیو یارک:)اعتدال آں لائن(
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد سے اسلاموفوبیا میں اضافہ الارمنگ ہے اور اسلاموفوبیا کی وجہ سے بعض ملکوں میں مسلم خواتین کا حجاب پہننا مشکل بنا دیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی کو اس کے غرور نے اندھا کردیا ہے، کرفیو اٹھنے کے بعد کشمیرمیں خون کی ندیاں بہیں گی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تاریخی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا مودی سمجھتا ہے کہ کرفیو کے بعد کشمیری خاموشی سے اسے قبول کرلیں گے، کرفیو اٹھنے کے بعد کشمیر میں خون کی ندیاں بہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر شدت پسندی کی طرف آیا تو اس کی وجہ اسلام نہیں ناانصافی ہوگی، جب نااںصافی ہوتی ہے تو انسان انتہائی قدم اٹھانا ہے، ناانصافی کے خلاف انسانی ردعمل کا تعلق مذہب سے نہیں ہوتا ہے، کشمیریوں کو شدت پسندی کی طرف دھکیلا جارہا ہے، بہت نازک وقت ہے، دو نیوکلیئر طاقتیں آمنے سامنے ہوں گی۔
عمران خان نے کہا کہ ایک لاکھ کشمیریوں سے زائد کو قتل، 11 ہزار سے زائد خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، کشمیر میں 80 لاکھ لوگ گھروں میں محصور ہیں، 80 لاکھ لوگوں پر 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں۔
وزیراعظم نے تقریر کے دوران کلبھوشن کے دہشت گرد نیٹ ورک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو نے بلوچستان میں دہشت گردی کا اعتراف کیا۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس وہ تنظیم ہے جو ہٹلر اور مسولینی سے متاثر ہے، آر ایس ایس نسل پرستی اور آریہ سماج پر یقین رکھتی ہے، آر ایس ایس مسلمانوں اور عیسائیوں کی نسل کشی اور نفرت پر یقین رکھتی ہے، ار ایس ایس کی سوچ کے باعث مودی نے 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کو قتل عام کیا، مودی پر امریکا میں گجرات میں قتل عام کے الزامات پر پابندی لگی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت نواز کشمیری رہنماؤں کو بھی بند کردیا گیا ہے اس سے کشمیریوں میں انتہا پسندی مزید بڑھے گی، ایسے حالات کے بعد مزید پلواما جیسے واقعات ہوں گے، ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم 5 سو دہشت گرد بھیجیں گے، نو لاکھ فوج کے آگے پانچ سو بندے کیا کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا خطرناک رفتار سے بڑھا، یورپ اور مغربی ممالک میں لاکھوں مسلمان اقلیت کے طور پر رہتے ہیں، مغرب میں حجاب کو ہتھیار سمجھا جاتا ہے، اسلامو فوبیا اس لیے ہوا کہ کچھ مغربی رہنماؤں نے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا۔
وزیراعظم نے کہا کہ صرف ایک اسلام ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہے، اسلامو فوبیا سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچی اور صورت حال بدترین ہورہی ہے، مسلمان لیڈروں کو انتہا پسندی سے اتنا خطرہ تھا کہ وہ جدید مسلمان بن گئے۔
عمران خان نے کہا کہ اللہ کے رسول نے حکم دیا قانون کے سامنے سب برابر ہیں، اسلام کے چوتھے خلیفہ نے یہودی کے خلاف اپنا مقدمہ ہارا، اللہ کے رسول ہمارے دلوں میں رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرے میں ایسا سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے، اقلیت سے اچھا سلوک نہ کرنا اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے، ہولوکاسٹ کے بارے میں احتیاط کی جاتی ہے کہ یہودیوں کو تکلیف ہوتی ہے، ہم چاہتے ہیں اللہ کے رسول کی عزت کی جائے۔
وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کا پاکستان پر بہت برا اثر ہوا، پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر ملک ہے، پاکستان اور بھارت کے دریاؤں میں پانی گلیشیئر سے آتا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، ہمارا 80 فیصد پانی گلیشیئرز سے آتا ہے، ہم 5 ہزار گلیشیئرز جھیلیں ڈھونڈ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پانچ سال میں ایک ارب درخت لگائے، اب ہمارا ٹارگٹ 5 سال میں 10 ارب درخت لگانا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے انسان کو بڑی طاقت دی ہے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے، اللہ نے انسان کو زبردست اختیارات دے رکھے ہیں، انسانی کی صلاحیتیں ہی دنیا کے لیے امیدیں جگاتی ہیں، اقوام متحدہ کو ماحولیات کے سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ہر سال اربوں ڈالر غریب ملکوں سے امیر ملکوں میں غیرقانونی طور پر جاتے ہیں، یہ ترقی پذیر ملکوں کے لیے تباہ کن ہے، غریب ممالک کے اربوں ڈالر غیرقانونی ترقیاتی ممالک میں چلے جاتے ہیں، آف شور کمپنیوں کے ذریعے غریب ممالک کے اثاثے جدید دنیا میں چلے جاتے ہیں، ہم انسانوں پر کیسے پیسہ خرچ کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس غیرقانونی دولت سے ہی المیے جنم لیتے ہیں، امیر ممالک بتائیں ان کے پاس ٹیکس چوری کی جنتیں کیوں قائم ہیں، امید ہے اقوام متحدہ اس میں سب سے آگے آئے گی۔
مسئلہ کشمیر:
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میرا چوتھا ایشو کشمیر ہے جس کے لیے خصوصی طور پر آیا ہوں، نریندر مودی کی جارحیت کی وجہ سے کشمیر میں تاحال کرفیو نے لوگوں کو محصور کررکھا ہے اور وہ لوگ دنیا کی سب سے بڑی جیل میں ہیں گزشتہ 30 سال میں ایک لاکھ کشمیریوں کو مار دیا گیا جب کہ دس ہزار خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 11 قرار دادوں کے باوجود بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کی اور کرفیو نافذ کردیا، مزید ہزاروں فوجی بھیجے اب تک وہاں کرفیو نافذ ہے، بھارت کی حکومت آر ایس ایس کے نظریے پر چل رہی ہے اور مودی اس کے نمائندے ہیں یہ نظریہ مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت انگیز برتاؤ کرتا ہے، مودی کی الیکشن مہم میں کہا گیا کہ یہ تو محض ٹریلر ہے پوری فلم ابھی باقی ہے مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں جو کہ ہٹلر اور مسولینی کے نظریے پر چلتی ہے۔
منی لانڈرنگ کا سدباب:
وزیراعظم نے منی لانڈرنگ کے سدباب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امیر افراد اربوں ڈالر غیر قانونی طریقے سے یورپ کے بینکوں میں منتقل کردیتے ہیں اس کے نتیجے میں ٹیکس کی آدھی رقم قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے اسی وجہ سے ہمارے ملک کا قرضہ 10برسوں میں چار گنا بڑھ گیا، ہم نےمغربی دارالحکومتوں میں کرپشن سے لی گئی جائیدادوں کا پتا چلایا لیکن ہمیں مغربی ملکوں میں بھیجی گئی رقم واپس لینے میں مشکلات کاسامنا رہا،امیر ممالک کو چاہیےکہ وہ غیر قانونی ذرائع سےآنیوالی رقم کے ذرائع روکیں کیونکہ غریب ملکوں سے لوٹی گئی رقم غریبوں کی زندگیاں بدلنے پر خرچ ہوسکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں:
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کو کلائمٹ چینج کا سامنا ہے متعدد رہنماؤں نے اس بارے میں بات چیت کی مگر دنیا کے لیڈرز اس ہنگامی صورتحال کا ادراک نہیں کررہے، پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جسے کلائمنٹ چینج سے سب سے زیادہ نقصان کا سامنا ہے، 80 فیصد پانی گلیشئر پگھلنے سے آتا ہے جو کہ ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم میں واقع ہے، کلائمنٹ چینج سے نمنٹے کے لیے لیے پاکستان دس ارب درخت لگارہا ہے، وہ ممالک جو گرین ہاؤس گیسز میں اضافے کاسبب بن رہے ہیں وہ کلائمٹ چینج کے ذمہ دار ہیں۔وزیراعظم عمران خان نےکہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے پر عالمی رہنما سنجیدہ نہیں، ایک ملک ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے سے اکیلا نہیں نمٹ سکتا۔
اسلامو فوبیا:
وزیراعظم نے کہا کہ میرا تیسرا ایشو اسلام فوبیا سے متعلق ہے، 1.3 ارب مسلمان اس دنیا میں رہتے ہیں جو کہ یورپ اور امریکا میں اقلیت ہیں، نائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا پھیلا، بعض ممالک میں مسلمان خواتین کا حجاب پہننا معیوب ہوگیا یہ سب کیا ہے؟ یہ سب اسلامو فوبیا ہے، اسلام صرف ایک ہی ہے جو کہ حضرت محمدﷺنے دیا، کچھ مغربی لیڈروں نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ دیا جس کی وجہ سے اسلامو فوبیا پھیلا اور اس میں اضافہ مسلمانوں کے لیے خطرناک ہے، افسوس کی بات ہے کہ بعض مغربی ممالک کے سربراہان اسلام پرستی اور بنیاد پرستی کے الفاظ استعمال کررہے ہیں حالاں کہ دہشت گردی کا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔
گستاخانہ مواد:
وزیر اعظم نے کہا کہ نائن الیون سے قبل تامل ٹائیگرز خودکش حملے کرتے تھے یہ تامل ٹائیگرز ہندو تھے لیکن کسی نے انہیں دہشت گردی سے نہیں جوڑا جب کہ نائن الیون کے حملوں کو اسلام سے جوڑ دیا گیا، نبی کریمﷺ نے ریاست مدینہ قائم کی جس میں اقلیتوں اور خواتین کو حقوق دیے گئے یہ پہلی فلاحی ریاست تھی جس میں غلامی کا خاتمہ ہوا اور سب لوگوں کو ان کے حقوق دیے گئے، ریاست مدینہ میں حاصل شدہ ٹیکس کی رقم غریبوں پر خرچ کی جاتی تھی، جب اسلام کی توہین پر مسلمانوں کا ردعمل سامنے آتا ہے تو انہیں انتہا پسند کہہ دیا جاتا ہے، مغرب کو سمجھنا چاہیے کہ نبی کریم ﷺکی توہین کی کوشش مسلمانوں کے لیے بہت بڑا معاملہ ہے جس طرح ہولوکاسٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے تو یہودیوں کو برا لگتا ہے یہ آزادی اظہار رائے نہیں دل آزاری ہے۔
پاک بھارت تعلقات:
وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے پڑوسیوں سے سفارتی و تجارتی سطح پر اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن بھارت بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث نکلا ہے ہم نے بلوچستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پکڑا، میں نے مودی سے کہا ہمیں بھارت کی دہشت گردی کا سامنا ہے، پاکستان نے تمام دہشت گردی کے گروپس ختم کردیے ہیں اقوام متحدہ سے درخواست ہے کہ اپنا مشن بھیج کر چیک کرالیں، اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی لیکن بھارت نے ٹھکرادی، ہمیں پتا چلا کہ بھارت پاکستان کوایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کرنیکی سازش کررہا ہے۔
دہشتگردی کیخلاف جنگ:
پاکستان نے 1989ء میں سویت وار اور نائن الیون کے بعد امریکا کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی حالانکہ نائن الیون میں کوئی پاکستانی شامل نہیں تھا، ہمارے 70 ہزار فوجی اور شہری اس جنگ میں شہید ہوئے، میں نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کی تھی۔
