
منیر اکرم جب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب تھے تو انہی دنوں میں پاکستان سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا تھا، اس پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے منیر اکرم نے نہ صرف کشمیر بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے حوالے سے بھرپور انداز میں اپنی آواز بلند کی۔
2003 میں بھارتی میگزین ’ آﺅٹ لک انڈیا‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق بھارت کے سفارتی حلقوں میں منیر اکرم کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا جس کی وجہ ان کا انڈیا کے خلاف جارحانہ رویہ ہے۔ اپنے سابقہ دور میں کشمیر اور ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے پر منیر اکرم نے انڈیا کو خوب دھول چٹائی تھی۔
منیر اکرم کے بھائی ضمیر اکرم بھی سفارتکار ہیں جو انڈیا سمیت مختلف اہم سفارتی محاذوں پر پاکستان کا مقدمہ لڑتے رہے ہیں۔ انڈیا کے سفارتی حلقوں میں دونوں بھائیوں کو ان ’ زہریلے میزائلوں‘ کی وجہ سے جانا جاتا ہے جو وہ انڈیا پر داغتے رہتے ہیں۔
جن دنوں منیر اکرم پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان تھے تو اس وقت انہوں نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران اس وقت کے بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کو ’ کرائے کا مسلمان‘ قرار دیا تھا۔
