علی وزیر کا اپنے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ میں اپنے خطاب میں جھوٹ نہیں بولوں گا، ان کا کہنا تھا کہ اگرجھوٹ بولاتو اسمبلی کےفلور پر استعفی دونگا۔
قومی اسمبلی اجلاس سے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کا حقیقت پر مبنی تقریر
part 1@Aliwazirna50 pic.twitter.com/WZvzXNLbQP— Ihtesham Afghan (@IhteshamAfghan) September 30, 2019
علی وزیر کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں50دہشتگردوں کا نام دیں کہ آپریشن میں ہلاک ہوئے ہو تو بھی میں استعفی دونگا، سارے آپریشن عوام کیخلاف ہوئے اور اس میں عوام کا نقصان ہوا۔ ریاست نے تسلیم کیا کہ اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ماضی میں نقصان ہوا۔ ان کے خطاب کے دوران وزیر داخلہ اجلاس چھوڑ کے چلے گئے۔
Part2 pic.twitter.com/NzV5yyVH6Z
— Ihtesham Afghan (@IhteshamAfghan) September 30, 2019
اس سے قبل محسن داوڑ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ سوچیں جب ریاست قتل بھی کرے اور مقدمہ بھی اسی پر درج کرے تو یہ ایکشن لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ ریاست ہماری نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر نہیں ہونا چاہئے کہ ریاست اپنے ہی شہریوں کو حقوق دینے کو تیار نہیں۔ میں اپوزیشن کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے ہمارے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
محسن داوڑ کا قومی اسمبلی میں دھواں دار خطاب
قومی اسمبلی محسن داوڑ نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ "سوچیں جب ریاست قتل بھی کرے اور مقدمہ بھی اسی پر درج کرے تو یہ ایکشن لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ ریاست ہماری نہیں” pic.twitter.com/a4Ey6OLyKg
— NayaDaur Urdu (@nayadaurpk_urdu) September 30, 2019
محسن داوڑ نے خڑ کمر چیک پوسٹ واقعہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہب ”ہم نے جیسے ہی دوسرا بیریئر پار کیا تو پیچھے سے فائرنگ شروع ہو گئی۔ جب لوگوں کو خون میں لت پت دیکھا تو پتہ چلا سیدھی گولی چلائی جا رہی ہے۔ ہمارے 15 ساتھی اس وقت جاں بحق ہوئے۔“
انہوں نے کہا کہ ہم نے 4 دن تک وہیں پر احتجاج کیا۔ ہم پر الزام لگا کہ ہم نے حملہ کیا ہے۔ جو ہمارے لوگ مارے گئے ان کی ایف آئی آر کس کے خلاف کاٹی گئی ہے۔
”محسن داوڑ اور علی وزیر پر ایک بھی گولی ثابت ہو جائے تو ہمیں ڈی چوک میں پھانسی دے دی جائے۔“
میں شاہد خاقان عباسی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے کہا کہ سب کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے تک اسمبلی میں نہیں آؤں گا: محسن داوڑ کا قومی اسمبلی سے خطابpic.twitter.com/3jBF1ipGqW
— NayaDaur Urdu (@nayadaurpk_urdu) September 30, 2019
قومی اسمبلی اجلاس میں محسن داوڑ نے اپنی تقریر کا آغاز پشتو کے شعر سے کیا جس کا ترجمہ ہے کہ ہمارے ہاتھ مت باندھو ایک وقت آئے گا جب ایک ایک بات کا حساب ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے جو میرے بارے میں کہا ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شاہد خاقان عباسی کا شکریہ جنہوں نے کہا کہ جب تک محسن داوڑ اور علی وزیر نہیں آتے میں بھی ایوان میں نہیں آؤں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک وزیر نے ہمارے بارے میں کہا کہ ان کی ریاست سے وفاداری مشکوک ہے۔ ہمیں کسی سے وفادرای کے سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں۔ جناب اسپیکر پروڈکشن آرڈر جای نہ ہونے کے باعث میں ایوان میں چار ماہ بعد آیا ہوں اب بات مکمل کرنے دیں۔
