
جنرل اسمبلی میں ایک معیاری طریقہ کار ہے کہ ایک ملک 15 منٹ تک بات کرے گا۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اس سے کہیں زیادہ لمبی تقریر بھی کی گئی۔ جیسا کہ وزیر اعظم پاکستان نے 50 منٹ 39 سیکنڈ تک بات کی۔ جنرل اسمبلی میں کی جانے والی تقریر میں پروٹوکول ، املا، انداز اور تکنیکی عناصر ایک بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
عام طور پر ہرمقرراپنے لکھے ہوئے خطاب کو کوپڑھتا ہے ۔ برطانیہ کے لیبر رہنما ایڈ ملی بینڈ ستمبر 2014 میں لیبر کانفرنس کے دوران اپنے تحریری متن سے ہٹ گئے تھے۔ اور کلیدی تقریر میں معیشت کا ذکر کرنا بھول گئے۔ جس کا نتیجہ انہیں انتخابی شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا ۔
وزیر اعظم پاکستان تحریری متن پر بھروسہ نہیں کرتے اور فطرتاً اپنی یادداشت پر بھروسہ کرتے ہیں۔یہ ایک جوء ا ہے جس سے احتراز کرنا کسی بھی سربراہ مملکت کے مفاد میں ہے۔نسیان قدرت کا ایک قانون ہے ۔یہاں تک کہ انبیاء کرام نے بھی اللہ سے اس کے خطرات پناہ کی دعا کی ہے۔شاید کسی نے محسوس کیاہو کہ وزیر اعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر کو مبارکباد ہی نہیں دی اور نہ ہی سبکدوش ہونے والے صدر کی خدمات کا اعتراف کیا۔ بلکہ انہوں نے صدر کا خصوصی شکریہ ادا کیے بغیر اپنا خطاب ختم کردیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے 3000 سال پرانے تامل شاعر کنیان پنگوندر کے ایک قول سے اپنے خطاب کا آغاز کیا۔ ایک عالمی راگ پر حملہ کرنے کے لئے ، "ہمار اتعلق سب جگہوں سے ہے اور ایک دوسرے سے ہے”۔ ان کی تقریر معمولی تھی اور عالمی توجہ حاصل کرنے میں میں ناکام رہی۔ وزیر اعظم پاکستان نے تقریر میں آر ایس ایس اور مودی پر منظم حملہ کیا۔ انہوں نے گجرات میں مسلم قتل عام اور اب متنازعہ جموں و کشمیر میں ظلم و بربریت کا ذمہ دار مودی کو قرار دیا۔
بھارتی وزیر اعظم نے دہشت گردی کے حوالے سے صرف ایک حوالہ دیا ۔لیکن اس سے پہلے ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور دنیا کے رہنماوادی کشمیر میں 80 ملین مسلمانوں کے لاک ڈاؤن پر ، مودی سرکار کے خلاف شدید احتجاج دیکھ چکے ہیں۔ اگرچہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی تقریر میں کشمیر کو چوتھے نمبر پر شامل کیا گیا ، لیکن وہ آر ایس ایس کی سیاست کے انداز ، مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ان کی نفرت اور ہندوؤں کی ہندو توابالادستی کی خواہش کو اجاگر کرنے میں کامیاب رہے ۔
اگر وزیر اعظم پاکستان کے پاس تقریر کا تحریری متن ہوتا تو وہ ہندوستان کے سکھوں اور دلتوں کی حالت زار کا حوالہ دینا ہر گز نہ بھولتے۔ یہاں ہندوستان کے آئین کے خالق بھیم را ؤرام جی امبیڈکر،جو اپنی دلت برادری کے پچاس ہزارافراد کے ساتھ ہندو مذہب ترک کرنے اور بدھ مت قبول کرنے پر مجبورہوئے ،کا حوالہ عالمی رہنماؤں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا۔
2016 ، 2017 اور 2018 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71 ویں ، 72 ویں اور 73 ویں اجلاسوں میں کی جانے والی تقریریں سب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بیانات تھے۔ کہا جاسکتا ہے کہ ان تقاریر کی تیاری میں عمومی طور پر پورے ملک اورخاص طور پر کچھ شعبہ جات نے پورے انہماک سے حصہ لیا۔ ان تقریروں میں کی جانے والی ہر بات کی اتھارٹی ، تجربہ اور معلومات ان معاونین کی مرہون منت تھی۔اور یہ تقاریر تیار کرنے والوں کی بیدار مغزی اور اور بھرپور توجہ کی عکاس تھیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم پاکستان پراعتماد طریقے سے اپوزیشن کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ بھی ایک انسان ہیں۔ اس لئے تحریری اسکرپٹ کے بغیر پوڈیم پر جانا ٹھیک نہیں تھا۔ یہاں تک کہ اگر آپ تحریری متن کو استعمال نہیں بھی کرتے تو یہ آپ کے لئے ایک سہولت کے طور پر موجود ہوتا ہے۔
تقریر کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کی بھرپور کاوش کے باوجود کوئی بھی تحریری متن کی عدم موجودگی کے نقصانات کو رد نہیں کرسکتا۔ کشمیر پر انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔جس طرح سے انہوں نے تقریر کے آخر میں تین مطالبات کئے وہ حیرت انگیز تھے۔ لیکن انہیں اپنا خطاب اچانک ختم نہیں کرنا چاہئے تھا ۔کشمیر سب سے اہم موضوع تھا لیکن اس میں تکنیکی ان پٹ کی کمی تھی۔پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71 ویں اور 72 ویں اجلاس میں کیے گئے دو اہم مطالبات یعنی کشمیر سے فوجی انخلا اور کشمیر پر اقوام متحدہ کے مندوب کے تقرر، کو دہرایا جانا ضروری تھا۔
یہ ایک نادر موقع تھا جہاں پاکستان جنرل اسمبلی کی توجہ کے لئے یہ موقف اپنا سکتا تھا کہ مودی سرکار کی کشمیر میں موجودہ کارروائی اور ہندوستانی فوج کی تازہ ترین تشکیل ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 30 مارچ 1951 اور 21 اپریل 1948 کی قرارداد کی صریح خلاف ورزی تھی ۔ حکومت ہند نے اس فوجی تعیناتی کے ذریعے قرارداد 47 کی پیرا 2 (i) (ii) اور (iii) کی خلاف ورزی کی ہے ، جس میں جموں و کشمیر کے متنازعہ حصے میں ہندوستانی فوج کی تعداد اور مقام کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے۔
اس صورتحال نے پاکستان کے لئے ایک اور زریں موقع فراہم کیا تھا کہ اقوام متحدہ کی فوج کو کشمیر بھیجنے کی 16 جنوری 1957 کی تجویز کو دہرائے۔جس کی تائید 14 فروری 1957 آسٹریلیا ، کیوبا ، برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے کی تھی ۔لیکن اس تکنیکی بیانیہ کو مکمل کرنے کا ایک بہترین موقع ضائع ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف اس شعبے میں کشمیری ماہرین سے مشاورت کا فقدان ہے۔
وزیر اعظم پاکستان نے کشمیری عوام کے اعتماد اور نظریات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیا۔ انہوں نے آزاد کشمیر اوربیرون ملک مقیم کشمیریوں سے کہا کہ وہ 27 ستمبر 2019 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر سے واپس آنے تک اپنے آزادی مارچ کو ملتوی کریں۔ حالانکہ انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو متنبہ کرنا چاہئے تھا کہ آزادکشمیر ، پوری دنیا میں مقیم کشمیری ، پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقیم ڈھائی لاکھ کشمیری مہاجرین اور ان کے ہمدرد مقبوضہ وادی میں جاکر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی امداد کرنا چاہتے ہیں، جس کا حق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 47 کے پیراگراف 12 کے تحت دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 47 میں کشمیری شہریوں کو سیزفائر لائن کے آرپار قانونی طور پر آمد ورفت کی کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔ لیکن پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو حاصل حقوق کے بارے میں آگاہی دینے کا سنہری موقع گنوا چکا ہے۔
حقوق انسانی کی تنظیم جے کے سی ایچ آر نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا تھا کہ وہ آزادکشمیر کے وزیر اعظم کے ذریعہ پیش کردہ اس کیس کے کو قانونی شکل دیں۔ ہم وزیر اعظم کی کشمیر کے ساتھ وابستگی کو سراہتے ہیں اور احترام کے ساتھ یہ درخواست کرنا چاہیں گے کہ جنرل اسمبلی میں خطاب کے موقع پر ان فنی نکات کا خیال رکھا جانا چاہئے تھا۔ جیسا کہ ترکی کے صدر طیب ایردو ان نے ایک چارٹ تیار کیا ہوا تھا۔ آئیے ہم اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔
مصنف جموں و کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق این جی او کے صدر ہیں۔
یہ مضمون ڈیلی ٹائمز میں شائع ہوا
