کشمیر میں فوج کی میڈیکل کور سے پچاس نفسیاتی امراض کے ڈاکٹرز کی تعیناتی کی درخواست
سری نگر،2اکتوبر(ساؤتھ ایشین وائر):مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے 5اگست سے لیکر اب تک جہاں عام لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں، وہاں وادی میں تعینات بھارتی فوجی بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں اگست کے بعد سے تعینات بھارتی فوجی نفسیاتی عارضوں کا شکارہونے لگے ہیں جس سے بھارتی فوج میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ساؤتھ ایشین وائر نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ بھارتی فوج میں، اِس حوالے سے، خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔5 اگست کو بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں فوج کی کثیر تعداد تعینات کی گئی تھی۔
ساؤتھ ایشین وائر نیوز ایجنسی مطابق مقبوضہ کشمیر میں اس وقت پندرہ لاکھ کے قریب سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں جن میں 750,000 ریگولر فوج، 530,000پیراملٹری فورسز،120,000جموں و کشمیر پولیس کے جوان، 35,000 ایس پی او اور ایس ٹی ایف، 50,000 وی ڈی سی (رضاکار)شامل ہیں۔ جب کہ پچاس ہزار کے قریب سنٹرل آرمڈ پولیس فورس (CAPF) کو اگست کے مہینے میں کشمیر میں تعینات کیا گیا۔
نیوز ایجنسی ساؤتھ ایشین وائر نے وادی کے مختلف ضلعوں میں تعینات جونئیر فوجی اہلکاروں سے بات کی جس میں فوجیوں نے وہاں پر ان کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا۔ فوجیوں نے اپنی شناخت اور رینک کو خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ کشمیر میں انہیں شدید بے یقینی کی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ فوج کی اعلیٰ قیادت سمیت وہ نہیں جانتے کہ جب صورتحال معمول پر آئے گی تو وہاں پر لوگوں کا ردعمل کیا ہوگا اور اس سے نپٹنے کے لیے ان کی عسکری قیادت نے کیا حکمت عملی طے کررکھی ہے۔
کشمیر میں تعینات دوسرے علاقوں کے فوجیوں نے یہاں پر مہیا کی جانے والی رہائش اور ناقص کھانے کی بھی شکایت کی ۔ بہت سے ایسے فوجی جو کہ بھارت کے گرم علاقوں سے یہاں پر تعینات کیے گئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں اب موسم کی تبدیلی پر صحت کے مسائل کا بھی سامنا ہوگا۔
ایک فوجی اہلکار نے شکایت کی کہ ان کے اہل خانہ بھی ان فوجیوں کی خیریت کے حوالے سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ایک فوجی نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ گزشتہ دنوں اس کی والدہ کا انتقال ہوگیا لیکن اس کو والدہ کے انتقال پر اس کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی طرح بہت سے مزید فوجیوں نے شکایت کی کہ ان کی چھٹیوں کی درخواستیں منظور نہیں کی جارہی ہیں ۔
سرینگر میں تعینات ایک فوجی نے بتایا کہ کہ اس کی شادی کی تاریخ ستمبر میں طے تھی لیکن اس کو شادی کے لئے بھی چھٹی نہیں دی گئی۔ اس طرح کے واقعات سے فوج میں نچلی سطح کے اہلکاروں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اور ان کو ذاتی اور نفسیاتی طورپر پریشانیوں کا سامنا ہے۔ فوجیوں نے ساؤتھ ایشین وائر کویہ بھی بتایا کہ ان کی تعیناتی جب ایک ضلعے سے دوسرے ضلعے میں کی جاتی ہے تو انہیں وہاں پر دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اور جب تک ہم وہاں سیٹل ہوتے ہیں، ہمارا تبادلہ کسی اور ضلع میں کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے اگلا آنے والا دن کہاں گزرے گا۔
ایسی صورتحال میں جونئیر فوجی اہلکاروں کی سینئرز سے بدتمیزی اور لڑائی جھگڑے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔جونیئر افسروں اور جوانوں سے بد سلوکیوں میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کو کچلنے کے لیے لمبی ڈیوٹی کے دوران انھیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اچانک حملوں کا خوف،مراعات کے لحاظ سے بھارتی فوجی افسروں اور جوانوں میں عدم مساوات کی جو گہری خلیج پیدا ہو چکی ہے، اِن سب عوامل نے مل کر بھارتی فوج میں نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔فرسٹریشن اور ڈپریشن کے مارے بھارتی فوجی اپنے ہی ساتھیوں کی گردن مارتے بھی نظر آرہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں متعین ڈیڑھ ملین بھارتی فوج میں یہ رجحان زیادہ بڑھ چکا ہے۔ کشمیری خود کش حملہ آوروں نے ان کے اعصاب شل کر دیے ہیں۔ نوجوان نسل اب جلسے جلوسوں سے آگے بڑھ کر ہتھیار اٹھا رہی ہے۔بھارتی فوجی نفسیاتی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔جس سے نپٹنے کے لئے کشمیر میں تعینات فوج کے اعلیٰ اہلکاروں نے بھارتی فوج کی میڈیکل کور سے تقریباً پچاس نفسیاتی امراض کے ڈاکٹرز کی تعیناتی کی درخواست کی ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ رواں برسوں میں کشمیر میں تعینات فوجیوں سمیت بھارتی فوج اور پیرا ملٹری فورسز کے ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں کی تعداد سیکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے جنہیں پنشن نہ ملنے کی وجہ سے اپنا قانونی حق لینے کے لیے بھارتی عدالتوں میں خوار ہونا پڑ رہا ہے۔
