

مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن کی بڑی جماعت کی تجاویز سے آگاہی کیلئے مرکزی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس آج طلب کرلیا
حکومت کیخلاف دھرنے اور آزادی مارچ کا حتمی فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف کرینگے ، ان کا آخری فیصلہ سب کو قبول ہوگا، احسن اقبال
حکومت گرانے کیلئے ہر جمہوری آپشن استعمال کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کا اعلان، جلد حکومت کے خلاف میدان میں نکل رہے ہیں سربراہ جے یو آئی
دونوں جماعتوں کے درمیان آزادی مارچ کی تاریخ پر مذاکرات کے بعد رہنماؤں کی میڈیا سے بات چیت
اسلام آباد(محمد اکرم عابد ) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے درمیان حکومت کیخلاف آزادی مارچ کی تاریخ پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن کی بڑی جماعت کی تجاویز سے آگاہی کیلئے مرکزی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس آج طلب کرلیا مولانا نے کہا ہے کہ جلد حکومت کے خلاف میدان میں نکل رہے ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کیخلاف دھرنے اور آزادی مارچ کا حتمی فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف کریںگے ، ان کا آخری فیصلہ سب کو قبول ہوگا، حکومت گرانے کیلئے اسمبلیوں سے استعفے سمیت ہر جمہوری آپشنہر استعمال کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار دونوں رہنمائوں نے بدھ کو دونوں جماعتوں کے درمیان آزادی مارچ کی تاریخ پر مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی کمیٹی نے پارٹی صدر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کی ہدایت پر مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی، ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ جاری معاشی تنزلی کی وجہ سے پاکستان کی قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوتے جارہے ہیں بلکہ یہ خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ حکومت کی تمام پالیسیاں عوام دشمن ہیں، پاکستان کے ٹاپ ترین بزنس مین خراب معاشی ماحول کے نتیجے میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات پر مجبور ہیں اور انہیں آگاہ کیا جارہا ہے کہ ملک میں کاروبار بند ہورہے ہیں، یہ سنگین معاملہ ہے کہ پاکستان کے تاجر آرمی چیف سے مذاکرات پر مجبورہوگئے ہیںہم کہاں جارہے ہیں۔ ہر ناکام معاشی اقدام کا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے ملک کیسے چلے گا آئے روز کابینہ میں تبدیلی کی بات کی جاتی ہے جب تک ناتجربہ کار اور اناڑی موجود رہے گا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ اناڑی حسد ، انتقام اور نفرت کی نگاہ سے سب کودیکھتا ہے، جیلوں میں ڈالنے کی بات کرتا ہے انتقامی کارروائیوں کی برملا دھمکیاں دیتا ہے۔ این آر او کی تسبیح پڑھنا مسائل کا حل نہیں ہے یہ این آراو دے سکتا ہے اور نہ کوئی ان سے این آراو مانگ رہا ہے ملک کی یہ درگت کیوں بنا دی ہے۔ حکومتی ناکامی کے سوالات اٹھائے جائیں تو یہ کہتا ہے این آراو نہیں دوں گا۔ حقیقی تبدیلی اور حکمرانوں سے نجات ناگزیر ہے ساری اپوزیشن جماعتیں پوری طاقت سے اس

حکومت کیخلاف مہم چلانے پر متفق ہیں۔ اس حکومت کی موجودگی میں بہتری نہیں آسکتی۔ مولانا فضل الرحمن کو مشترکہ حکمت عملی کے بارے میں تجاویز سے آگا ہ کردیا ہے انہوں نے جمعرات کو مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ نواز شریف کو ہم اپنی جماعت کی مجلس عاملہ کی تجاویز سے آگاہ کریں گے۔ نواز شریف جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ہمارا آخری فیصلہ ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ساری اپوزیشن جماعتوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ نہ صرف داخلی طورپر بلکہ معاشی طورپر پاکستان ڈوب رہاہے۔ نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس ہورہے ہیں، تاجر کاروبارچھوڑ کر جارہے ہیں، پیسہ باہر منتقل ہورہاہے پاکستان کی مذہبی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے ہر شعبہ کرب میں مبتلا ہے، اقوام متحدہ میں ان کی تقریر کا متن ریاستی سطح پر تیار کیا گیا ہمارے ملین مارچ کو کائونٹر کرنے کیلئے عمران خان نے اقوام متحدہ میں مذہبی کارڈ استعمال کیا۔ مغرب کو کہہ رہا ہے کہ حجاب پر اعتراض کیوں ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں جب ایک ضلعی تنظیمی خاتون افسر نے لڑکیوں کیلئے حجاب لازمی قرار دیا تو اسی شام اس خاتون کو خیبرپختونخوا حکومت نے نوٹیفکیشن واپس لینے پر مجبور کردیا اور ان کے حکم کو معطل کردیا گیا ۔ ایک طرف ناموس رسالتۖ کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں توہین کی مرتکب کو نہ صرف باعزت بری کیا جاتا ہے بلکہ باعزت ملک سے باہر بھی بجھوایا جاتا ہے۔ تحفظ ختم نبوتۖ کی بات کی جاتی ہے دوسری طرف پاکستان سے ایک قادیانی کور ہا کرکے ٹرمپ کے دربار میں پیش کیا جاتا ہے۔ جو بعد میں پاکستان کیخلاف کیس بنا دیتا ہے۔ عمران خان کی تقریر اور قول وفعل تضادات کا مجموعہ ہے۔ اقوام متحدہ میں ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر بھارت کو اس بات کا موقع فراہم کیا کہ وہ یہ معاملہ عالمی فورم پر اٹھائے کیونکہ ہر ایٹمی ملک میں اس معاہدے پر دستخط کررکھے ہیں کہ وہ ایٹمی حملے میں پہل نہیں کرے گا ۔ عمران خان نے یہ دھمکی دے کر بھارت کو موقع دیا کہ وہ اقوام متحدہ میں ایٹمی جنگ کی دھمکی کو اٹھائے پہلے ہی دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں۔ اب عمران خان نے ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو دبائو میں لانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر تقریر موثر تھی تو انسانی حقوق کمیشن میں پاکستان کو ووٹ کیوں نہیں ملے۔ بھارت کو اس تقریر کے بعد کیوں ووٹ ملے۔ سب سمجھتے ہیں کہ کشمیر کو بیچ ڈالا ہے۔ عالمی برادری آگاہ ہے کہ منصوبہ اور رضا مندی سے ایسا ہو ا ہے اور جب وہاں انسانی حقوق کا مسئلہ سنگین ہوگیا تو عمران خان کی حکومت انسانی حقوق کا واویلا کرکے اپنے جرم کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے دعویٰ کیا کہ اسلامی ممالک کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا اس لئے ساتھ نہیں دے رہے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ حکومت نے کشمیر کاسودا کرلیا ہے وہ حقائق سے آگاہ ہیں پاکستان کی سفارتکاری مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے بلکہ یہ خارجہ امور سے عاری حکمران ہیں۔ حکومت ناجائز ہے پی ٹی آئی کا دھرنا جائز حکومت جبکہ ہمارا آزادی مارچ ناجائز حکومت کیخلاف ہوگا۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ جائز حکومت کے قیام کیلئے میدان نکلا جائے تاکہ حقیقی معنوں میں عوامی نمائندوں کی حکومت قائم ہوسکے۔ اپوزیشن ایک آواز ہے قوم کے جذبات کی ترجمانی کریں گے ۔ احسن اقبال نے اسمبلیوں کی تحلیل کے مطالبے سے متعلق سوال کے جواب میں کہاکہ موجودہ حکومت کو گرانے کیلئے ہر جمہوری آپشن استعمال کیاجائے گا مذہبی کارڈ کے استعمال سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ابتدائی طورپر اپوزیشن کی بعض جماعتوں نے یہ بات رکھی تھی مگرآل پارٹیز کانفرنس میں انہیں مطمئن کردیا گیا کہ مذہب پاکستان کا حصہ ہے، پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے، عقیدہ ختم نبوتۖ اور ناموس رسالتۖ آئین کاحصہ ہے اورہم آئین سے باہر کوئی کارڈ استعمال نہیں کررہے ہیں بلکہ ہمیںکائونٹر کرنے کیلئے مذہبی کارڈ تو عمران خان نے اقوام متحدہ میں استعمال کیا۔ احسن اقبال نے کہاکہ آئین کی بالادستی موجودہ حکومت کی رخصتی اور جلد ازجلد صاف شفاف انتخابات پر ساری اپوزیشن متفق ہے تاکہ حقیقی نمائندہ حکومت آسکے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے نومبر تک آزادی مارچ موخر کرنے کی درخواست کی تاہم اس معاملے پر دونوں جماعتوں میں کوئی اتفاق رائے نہ ہوسکا جس پر مولانا فضل الرحمن نے آج جے یو آئی کی مرکزی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔
