
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے فوراً بعد ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو ہٹا کر ان کی جگہ منیر اکرم کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
منیر اکرم سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی سنہ 2002 سے 2008 تک اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔
سنہ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے معاملے پر منیر اکرم کے پیپلز پارٹی سے اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کے بعد انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
منیر اکرم پر نیویارک میں سنہ 2002 میں اپنی ساتھی خاتون پر گھریلو تشدد کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا تاہم سفارتی استثنیٰ کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تھی۔
It has been an honour to serve the country am grateful for the opportunity to do so for over four years. Representing Pakistan at the world’s most important multilateral forum was a great privilege. I had planned to move on after UNGA following a successful visit by the PM -1
— Maleeha Lodhi (@LodhiMaleeha) September 30, 2019
ملیحہ لودھی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پر پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انھوں نے لکھا کہ وزیر اعظم کے دورے اور گذشتہ کئی برسوں سے ملنے والی پذیرائی پر وہ شکر گزار ہیں۔
یاد رہے کہ ملیحہ لودھی کو دسمبر 2014 میں اقوام متحدہ میں مستقل مندوب تعینات کیا گیا تھا اور انھوں نے فروری 2015 میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔
ملیحہ لودھی سنہ 1994 سے 1997 اور پھر سنہ 1999 سے 2002 تک دو بار امریکا میں پاکستان کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔

ملیحہ لودھی کی تبدیلی کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد حکومتی حلقوں میں ملیحہ لودھی کی تعریف میں قصیدے پڑھے جا رہے تھے۔
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے تو اپنی ٹویٹ میں عمران خان کے اس دورے کی ’کامیابی‘ کا سہرا بھی ملیحہ لودھی کے سر باندھا تھا۔

سوشل میڈیا پر جہاں اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔
معاشی اور اقتصادی امور کے ماہر صحافی خرم حسین نے لکھا ’کامیاب دورے کے بعد ملیحہ لودھی کو ہٹایا جانا حیران کن ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ نیو یارک یا واشنگٹن میں چیزیں ٹھیک نہیں ہوئیں۔‘
Maleeha Lodhi’s removal so soon after what was billed as a successful trip is puzzling. It creates the impression that things did not go well in New York or DC.
— Khurram Husain (@KhurramHusain) September 30, 2019
صحافی ضرار کھوڑو نے لکھا ’ملیحہ لودھی کی جگہ منیر اکرم کو کس میرٹ کی بنا پر لایا گیا اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میرے نزدیک یہ رجعت پسندانہ قدم ہے۔ امید ہے یہ بزداری عمل کا حصہ نہیں ہے۔‘
Really not sure about the merits of replacing Maleeha Lodhi with Munir Akram. Seems to be a regressive step to me. Hopefully this is not part of the Buzdarification process.
— Zarrar Khuhro (@ZarrarKhuhro) September 30, 2019
کالم نگار مشرف زیدی نے لکھا ’وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنا کامیاب ترین ہفتہ مکمل کرنے کے چند گھنٹے بعد ہی وزیر اعظم نے نیویارک میں پاکستان کے مستقل مشن کے محافظ کو تبدیل کردیا، جس کی کوئی وضاحت یا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس انتظامیہ کے انتہائی پرجوش حمایتی اس کا دفاع کر سکتے ہیں۔‘
Mere hours after completing his most successful week as prime minister, the prime minister sanctions a change in guard at the Pakistan permanent mission in New York that cannot be explained or justified or defended by even the most enthusiastic defenders of this administration.
— Mosharraf Zaidi (@mosharrafzaidi) September 30, 2019
ملیحہ ہاشمی نے لکھا ’ملیحہ لودھی کی جگہ منیر اکرم کی تعیناتی ایک بہترین فیصلہ ہے۔‘ انھوں نے لکھا کہ منیر اکرم پر تنقید کرنے والے انتظار کریں اور پاکستان کو سفارتی محاذ پر پروان چڑھتا دیکھیں۔‘
#MunirAkram replacing #MaleehaLodhi is an AMAZING decision. He proved his mettle from 2002-2008 will be a force to reckon with, yet again, Insha Allah!😍
His critics better WAIT WATCH #Pakistan flourish on diplomatic front soon. Watch this space, haters, watch this space! 😎 pic.twitter.com/HlA5NM0F51
— Maleeha Hashmey (@MaleehaHashmey) September 30, 2019
کالم نگار محمد تقی نے طنزیہ انداز میں لکھا ’ہا ہائے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی مینیجر کو ہٹا دیا گیا؟‘
Haw hai, removing the manager of the #UNGA World Cup-winning team? https://t.co/7Vi2JehRWf
— Mohammad Taqi (@mazdaki) September 30, 2019
