ویب ڈیسک —
بھارت نے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد کے کشمیر سے متعلق بیانات کی مذمّت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں دونوں رہنماؤں نے جانب داری کا مظاہرہ کیا۔
جمعے کو نئی دہلی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ملائیشین وزیرِ اعظم مہاتیر محمّد اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے کشمیر سے متعلق بیانات حقائق کے منافی ہیں۔ دونوں رہنما کشمیر کے معروضی حالات سے واقف نہیں لہذٰا بھارت کو ان کے بیانات پر مایوسی ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیبب ایردوان اور ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کشمیر میں مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ طیب ایردوان نے کہا تھا کہ تنازع کشمیر 72 سال سے حل طلب ہے لہذٰا عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہئیے۔
رویش کمار کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر کے معاملے پر عالمی حمایت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ پاکستانی حکام تاحال ان ممالک کے نام سامنے نہیں لا سکے جن کا وہ دعویٰ کرتے تھے کہ کشمیر کے معاملے پر وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی میں کشمیر سے متعلق قرارداد لانے میں ناکام رہا تھا۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو 58 ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل پاکستان کے نجی نیوز چینل ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان حکمت عملی کے تحت دانستہ طور پر انسانی حقوق کمیشن میں قرارداد نہیں لایا۔
کرتاپور راہداری پر پاکستان کے جواب کا انتظار ہے
رویش کمار کا کہنا تھا کہ بھارت کرتار پور راہداری کے معاملے پر یکسو ہے اور اسے بروقت مکمل کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب چار رویہ سڑک تعمیر ہو چکی ہے جب کہ رواں کے آخر تک مسافروں کے ٹرمینل کی تعمیر کا کام بھی مکمل ہو جائے گا۔
رویش کمار کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری کے حوالے سے کچھ معاملات حل طلب ہیں۔ ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ زائرین سے ویزا فیس وصول نہ کرے لیکن ابھی تک پاکستان نے اس کا جواب نہیں دیا۔
افتتاحی تقریب میں شرکت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جب تک اختلافی معاملات حل نہیں ہو جاتے افتتاحی تقریب کے حوالے سے کوئی بات کرنا مناسب نہیں۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کا دورہ بھارت
بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دورہ بھارت کی تفصیلات بتاتے ہوئے رویش کمار نے کہا کہ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان چھ سے سات معاہدے طے پانے کی توقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کے دورہ بھارت سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
این آر سی کے تحت لاکھوں افراد کی شہریت منسوخ کرنے پر بنگلہ دیش کے تحفظات پر رویش کمار کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کی گئی۔ اس کے تحت جن افراد کی شہریت منسوخ ہوئی ہے ان کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔
خیال رہے کہ بھارتی ریاست آسام میں تقریباً 20 لاکھ افراد کو ‘غیر بھارتی’ قرار دیتے ہوئے ان کی شہریت منسوخ کردی گئی تھی۔
