English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

‘لائن آف کنٹرول عبور کرنا بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہو گا’

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیریوں کا کرب وہ سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم لائن آف کنٹرول(ایل او سی) عبور کر کے کشمیریوں کی مدد کرنے کی کوشش بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہو گی۔

ہفتے کو اپنی ایک ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں غیر انسانی کرفیو لگے دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اگر کسی نے بھی اپنے طور پر لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش کی تو اس سے بھارت کے بیانیے کو تقویت ملے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایسے اقدام سے بھارت کو دنیا کی توجہ جموں و کشمیر کے مسئلے سے ہٹانے کا موقع ملے گا۔ ان کے بقول بھارت کشمیری عوام پر ریاستی جبر میں مزید اضافہ کر کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کارروائی کا بھی جواز ڈھونڈ لے گا۔

پاکستان کے وزیر اعظم کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز بھارت کے زیرِ انتظام کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ہزاروں افراد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی ریلی میں مظفرآباد پہنچ گئے تھے۔ کشمیروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ(جے کے ایل ایف) نے اس احتجاج کی کال دی تھی۔

اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے ایک جذباتی تقریر کے دوران کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے باشندے ہر روز پاکستانی فوج کا انتظار کرتے ہیں۔

بھارت کی جانب سے پانچ اگست کو کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدامات کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے ہی جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

پاکستان نے بھارت کے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

لائن آف کنٹرول کے اطراف پاکستان اور بھارت کی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔

لائن آف کنٹرول کے اطراف پاکستان اور بھارت کی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔

بھارت کا یہ موقف رہا ہے کہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنا بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارت تنازع کشمیر کے حل کے لیے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیش کش کو بھی مسترد کرتا رہا ہے۔ بھارت وزیر اعظم نریندر مودی واضح کر چکے ہیں کہ شملہ معاہدہ اور اعلان لاہور کے مطابق پاکستان اور بھارت دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے باہمی مسائل حل کرنے کے پابند ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو ماہ سے جاری کرفیو کے باعث نقل و حمل متاثر ہے۔ جب کہ مواصلاتی رابطے بھی محدود ہیں۔

پانچ اگست کے بعد سے ہی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول(ایل او سی) کے قریب احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

مختلف اہم شخصیات اور سیاست دان بھی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے لائن آف کنٹرول کا دورہ کر رہے ہیں۔

بھارت پاکستان پر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کے ذریعے بھارت میں دارندازی کے لیے عسکریت پسندوں کو بھیجتا ہے۔ رواں سال فروری میں بھارتی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر ہونے والے خود کش حملے میں 40 سے زائد فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے