اسلام آباد —
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور ملک کی بڑی کاروباری شخصیات کی ملاقات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اعلان کیا ہے کہ نیب آج کے بعد ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا اور 2017 سے پہلے کے تمام ٹیکس ریفرنسز واپس لے لیے جائیں گے۔
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے سامنے تاجروں کے نیب سے متعلق تحفظات بلاجواز ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب مادرپدر آزاد نہیں ہے، نیب کے تاثر کو بہتر بنانے کی دیانتداری سے کوشش کی جا رہی ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ آرمی چیف اور وزیراعظم کے سامنے رکھے گئے تحفظات پر بلاجواز ہیں اور نیب ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے بزنس کمیونٹی کا مورال نیچا ہو۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر ایک کی عزت نفس کا خیال ہے اور تاجر برادری کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے آرمی چیف کے سامنے نیب کی شکایات پر کہا کہ اگر تاجروں کو اس حوالے سے کچھ تحفظات تھے تو وہ براہ راست اُن سے بھی بات کر سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ نیب وائٹ کالر کرائمز کی تحقیقات کر رہا ہے اور ملکی پالیساں بنانے میں نیب کا کوئی کردار نہیں البتہ بیروزگاری کا خاتمہ صرف حکومت کا کام نہیں ہے۔ تاہم کوئی شخص یا ادارہ عقل کل نہی ہے۔ نیب کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ادارے ہوں یا انسان، خامیاں سب میں ہوتی ہیں۔ پاکستان آزاد ملک ہے اور یہاں آئین اور قانون کی حکمرانی ہے۔

جاوید اقبال نے کہا کہ کسی بھی ملک کے زوال میں بدعنوانی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے قائد اعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی اور اقربا پروری پاکستان کے دو بڑے مسئلے ہیں جبکہ معیشت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور نجی سیکٹر کردار ادا کرے تو ملکی معیشت بہتر ہو سکتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ معیشت مضبوط ہونے تک ملک اور اس کا دفاع مضبوط نہیں ہو سکتا۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب آج کے بعد ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا اور ٹیکس سے متعلق تمام ریفرنس واپس لینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ بزنس مین کو نیب کی جانب سے نوٹس نہیں بھیجا جائے گا اور بینک ڈیفالٹ کے معاملات نیب نہیں دیکھے گا جبکہ متعلقہ بینک کی جانب سے درخواست کے بغیر نیب بینک ڈیفالٹ کیسز بھی نہیں لے گا۔ جاوید اقبال نے یقین دلایا کہ کوئی نیب افسر کسی بھی بزنس مین کو ٹیلی فون کال نہیں کرے گا۔ اگر کسی معاملہ میں کسی تاجر کو بلانا ہو گا تو اس کو فون کال کے بجائے نوٹس جاری کیا جائے گا جس میں اس کو بلائے جانے کی وجہ بھی دی جائے گی۔
تین ہفتوں میں سعودی طرز کے اختیارات کی خواہش کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ سعودی عرب میں چار ہفتوں میں پیسے برآمد کیے جا سکتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں کیے جا سکتے۔ تاہم اگر وہاں جیسے اختیارات مجھے دیے جائیں تو میں تین ہفتے میں ریکوری کر دوں گا لیکن سعودی ماڈل جیسی ہماری کوئی خواہش نہیں ہے۔ نیب کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بادشاہت نہیں بلکہ ایک آئین اور قانون ہے جہاں سب کچھ اسی کے مطابق ہو گا۔
میڈیا میں نیب کے تاثر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک آدھ چینل کی شام نیب پر تنقید سے شروع ہوتی ہے۔ ان میں سے اکثریت نے نیب کا آئین پڑھا اور نہ ہی عدالتی نظام دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان چینلز کی تنقید کو نظر میں رکھتے ہیں، نیب کیس کرتا ہےتو ایک صاحب کا بڑا کالم اگلے روز آ جاتا ہے کہ وہ شخص بےگناہ ہے۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ میڈیا جتنی بھی ترقی کر لے، وہ عدالتی فرائض انجام نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تنقید تعمیری ہو تو ملک کا فائدہ ہو گا۔
چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک کے بڑے بزنس مینوں نے آرمی چیف اور پھر وزیراعظم سے ملاقاتوں کے دوران نیب سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ بالخصوص بینکنگ سیکٹر کے میاں منشا، رئیل سٹیٹ کے ملک ریاض اور ایگرو انڈسٹری کے حسین داؤد نے نیب کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔
اس حوالے سے زبیر موتی والا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان شکایات کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئندہ پندرہ دنوں میں ان شکایات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے ملک کے معاشی معاملات میں حکومت کی مدد کے حوالے سے یہ بیانات سامنے آئے ہیں اور یہ ملاقات بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھی۔ آرمی چیف نے تاجروں کی ہر ممکن مدد کرنے اور حکومت سے مراعات دلوانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس ملاقات میں حکومتی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی اور وزیر مملکت حماد رضا بھی شریک تھے جنہوں نے تمام بزنس مینوں سے ملک میں سرمایہ کاری کرنے اور معاشی حالات کو بہتر کرنے میں مدد کی درخواست کی تھی۔
