English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مارچ روکنے کے خلاف لبریشن فرنٹ کا دھرنا

کشمیر کی خود مختاری کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں اور حامیوں نے چار روز قبل چکوٹھی کے راستے سری نگر کی جانب مارچ شروع کیا تھا، جسے پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کی انتظامیہ نے کنٹرول لائن سے کچھ فاصلے پر روک دیا ہے۔

مارچ کے روکے جانے کے خلاف جلوس میں شامل افراد نے لائن آف کنٹرول کے قریب دھرنا شروع کر دیا ہے۔

پولیس نے جلوس کو کنٹرول لائن کے قریب جانے سے روکنے کے لیے اتوار کی شام چکوٹھی سے آٹھ کلو میٹر دور جسکول کے مقام پر سری نگر مظفرآباد شاہراہ پر کنٹینر لگا کر اسے بند کر دیا تھا۔

پیر کے روز پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار نے کہا کہ مارچ کو روکنے کے خلاف دھرنا شروع کر دیا گیا ہے اور جب تک آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی یا اقوام متحدہ کا کوئی نمائندہ ان کے پاس نہیں آتا، وہ جسکول کے مقام پر اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔

مارچ میں شامل لبریشن فرنٹ کے حامی آزادی اور رکاوٹیں ہٹانے کے حق میں لگاتے رہے۔

پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کی انتظامیہ نے کنٹینر لگا کر لائن آف کنٹرول جانے والا راستہ بن کر دیا ہے۔

پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کی انتظامیہ نے کنٹینر لگا کر لائن آف کنٹرول جانے والا راستہ بن کر دیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے ترجمان راجہ وسیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مارچ کے شرکاء کو اس خطرے کے پیش نظر آگے نہیں جانے دیا گیا کہ بھارتی فوج ان پر فائرنگ کرے گی۔

لبرشن فرنٹ کی طرف سے 4 اکتوبر کو پاکستانی کشمیر کے آخری شہر بھمبر سے سری نگر براستہ ایل او سی چکوٹھی مارچ کا آغاز کیا گیا تھا، جس میں فرنٹ کے ہزاروں حامیوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے