جنرل قمر باجوہ نے بعض ملاقاتیوں کے مقاصد کو بھانپ کر ہی حفیظ شیخ اور حماد اظہر کو ساتھ بٹھایا
سابقہ حکمرانوں کے مراعات یافتہ کاروباری حضرات کی حسرتیں دل میں ہی رہ گئیں‘نتیجہ کچھ اور نکلا
میاں منشا اور ملک ریاض کو اپنے سوالات کا تسلی بخش بلکہ منہ توڑ جواب ملا ‘سینئر صحافی ارشاد عارف
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی وکالم نگار ارشاد عارف کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے قبل بزنس لیڈروں کی آرمی چیف سے ملاقاتوں کا مقصد کچھ اور تھا۔نتیجہ کچھ اور نکلا۔حقیقت کبھی چھپی نہیں رہے گی،میاں منشا اور ملک ریاض کو اپنے سوالات کا تسلی بخش بلکہ منہ توڑ جواب ملا۔سابقہ حکمرانوں کے مراعات یافتہ کاروباری حضرات کی حسرتیں دل میں ہی رہ گئیں۔وہ یہ تاثر دینے میں ناکام رہے کہ سول اور خاکی قادت کے مابین اعتماد کی سطح وہ نہیں جو چند ماہ پہلے تھی۔آرمی چیف نے بعض ملاقاتیوں کے مقاصد کو بھانپ کر ہی حفیظ شیخ اور حماد اظہر کو ساتھ بٹھایا۔اور یہ بھی واضح کیا کہ جب ماضی کی کرپٹ، نااہل اور عوام دشمن حکومتیں اپنی مدت پوری کرتی رہی ہیں تو موجودہ حکومت جو نیک نیت ہے اور پاکستان کو بلندیوں پر لے جانے کی خواہشمند تھی،اس حق سے محروم کرنے کا کیا جواز ہے۔انہوں نے بھی بتایا کہ تمام قومی ادارے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔کاروباری طبقہ حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ اس سے تعاون کرے۔میاں منشا اور ملک ریاض کو اپنے سوالات کا تسلی بخش بلکہ منہ توڑ جواب ملا۔اور وہ مزید کچھ کہنے کیقابل نہ رہے۔ارشاد عارف اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں کہ عقیل کریم ڈھیڈی نے میاں منشا اور دیگر کاروباری شخصیات کو یاد دلایا کہ مہنگی بجلی کے باعث انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے۔اور اس کی ذمہ دار حکومت نہیں۔وہ لوگ جو سابقہ دورِ حکومت میں من مانے نرخوں سے ریاست اور گھریلو کاروباری صارفین کو کنگال کرتے رہے۔آرمی چیف نے ارب پتی بزنس لیڈروں کو ریکوڈک جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور گوادر کی راہ دکھائی تاکہ حکومت کو بیرونی سرمایہ کاروں کی راہ نہ دیکھنی پڑے۔توقع یہ تھی کہ آرمی چیف اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد کاروباری سرگرمیااں تیز ہوں گی۔کاروباری طبقے میں موجود افراد کو شٹ اپ کال ملے گی لیکنچیئرمین نیب کی پریس کانفرنس سے کچھ اور ہی پیغام ملا۔

