کھلی فضا میں جلانے سے اٹھنے والا دھواں ماحول پر منفی اثرات مرتب کررہا تھا، علاقہ مکین دمے، سانس اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہورہے تھے
میوہ شاہ قبرستان کے قریب ان غیر قانونی کارخانوں کے بڑے ویئر ہائوسز قائم تھے، بڑی تعداد میں تانبے اور لوہے کے تار ذخیرہ کئے گئے تھے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) محکمہ تحفظ ماحولیات (سیپا) کی ٹیم نے میوہ شاہ قبرستان کے قریب کارروائی کرکے ٹائر اور الیکٹرونکس کا ناکارہ سامان جلا کر تانبے، لوہے کے تار نکالنے والے غیر قانونی کارخانوں کو سیل کردیا۔ ترجمان کے مطابق یہ کارروائی مشیر ماحولیات سندھ مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر کی گئی، سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی ضلع غربی کے ڈپٹی ڈائریکٹر وارث علی گبول کے مطابق گاڑیوں کے ناکارہ ٹائر اور الیکٹرونکس کا ناکارہ سامان کھلی فضا میں جلایا جارہا تھا جس کے دھویں سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے، ٹائر اور الیکٹرونکس کے ناکارہ سامان سے نکلنے والے تانبے و لوہے کے تار پالش کر کے مارکیٹ میں فروخت کر دیے جاتے تھے جس کے بعد یہ تار تعمیراتی صنعت سمیت دیگر شعبوں میں استعمال کیے جاتے تھے، میوہ شاہ قبرستان کے قریب ان غیر قانونی کارخانوں کے بڑے ویئر ہائوسز قائم تھے جہاں بڑی تعداد میں تانبے اور لوہے کے تار ذخیرہ کیے گئے تھے تار اور ٹائر جلانے سے نکلنے والے دھویں سے اطراف میں رہنے والے مکین دمے، سانس اور پھیپھڑوں سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو رہے تھے یہ غیر قانونی کارخانے انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ تھے۔

