English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شام میں ترکی کی فوج کارروائی: امریکہ کا ’کردوں کے خلاف‘ حملے روکنے کے لیے ترکی پر دباؤ

پابندیوں کا منصوبہ کیا ہے؟

امریکہ میں اپوزیشن جماعت یعنی ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان میں حکمران رپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے 29 ارکان کے ایک گروپ نے قانون سازی کا اعلان کیا ہے جس سے انقرہ پر پابندیاں عائد ہوں گی۔

خاتون رکن لز چینی نے ایک بیان میں لکھا ’اگر ترکی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ اتحادیوں جیسا سلوک کیا جائے تو اسے بھی ایک اتحادی کی طرح برتاؤ کرنا ہو گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’کانگریس کو طویل عرصے سے (اردوغان) حکومت کی طرف سے امریکی مخالفین جیسا کہ روس کے ساتھ تعاون پر خدشات ہیں۔‘

تاہم انھوں نے اپنے بیان میں امریکی فوجیوں کے شام سے انخلا کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

کانگریس کی رکن جوڈی ارنگٹن نے کہا ہے کہ ’امریکی صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر ترکی شام میں حد سے تجاوز کرتا ہے تو وہ اسے معاشی طور پر تباہ کر دیں گے اور اس قانون سازی سے امریکہ کو اپنا وہ وعدہ پورا کرنے کے لیے درکار چیز ملتی ہے۔‘

یہ منصوبہ رپبلکن پارٹی کی ہی سینیٹر لنڈزے گراہم کی جانب سے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس ہولن کے ساتھ مل کر جمعرات کو پیش کیے گئے اس مسودۂ قانون کے بعد سامنے آیا جس میں ترکی پر ’کڑی پابندیاں‘ لگانے کی بات کی گئی تھی۔

لنڈزے گراہم صدر ٹرمپ کی بڑی حامی ہیں لیکن انھوں نے شام سے امریکی فوج کے انخلا کی کھل کر مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ نے کردوں کو شرمناک انداز میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔

تلہ آباد

ترکی کی حامی شامی ملیشیا کو بھی فوجی کارروائی کے دوران جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے

صدر ٹرمپ نے کیا ردعمل ظاہر کیا ہے؟

صدر نے شام سے امریکی فوج کے انخلا کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا، یہاں تک کہ ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ کردوں نے ’دوسری عالمی جنگ میں ہماری مدد نہیں کی۔‘

لیکن اس کے بعد سے انھوں نے ترکی کی شام میں کارروائی پر سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا اگر ترکی کی کارروائی ’انسان دوست‘ نہیں ہے تو پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا حد عبور کرنے کا مطلب ’نسل کشی، توپخانے کا بلاتفریق استعمال اور شہری آبادی کو فضائی اور دیگر طریقوں سے نشانہ بنایا جانا ہے۔‘

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’ ہم نے ابھی تک اس کی نمایاں مثالیں نہیں دیکھی ہیں لیکن ابھی تو آغاز ہوا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ صدر نے سفارتی عملے کو یہ جانچنے کی ذمہ داری دی تھی کہ ’اگر دونوں فریقوں کے مابین کوئی بیچ کی بات بن سکے تو ہم جنگ بندی کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ امریکہ کے پاس تین راستے ہیں۔ ’ہزاروں فوجی بھیج کر عسکری فتح، ترکی پر کڑی مالیاتی پابندیاں اور ترکی اور کردوں کے درمیان معاہدے کے لیے ثالثی۔‘

بعدازاں امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پرامید ہوں کہ اس میں سے آخری راستہ استعمال ہو گا۔‘

ترکی

شام میں ترک آپریشن میں کیا ہو رہا ہے؟

جمعرات کی شب ملنے والی اطلاعات کے مطابق ترک فوج نے شام میں سرحدی قصبوں راس العین اور تل ابیض کو گھیرے میں لے لیا ہے

ترکی کی اناطولو نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اب تک کارروائی میں 228 کرد جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو دن میں ترک صدر نے یہ تعداد 109 بتائی تھی۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے صدر اردوغان کی جانب سے دیے گئے اعدادوشمار کو مبالغہ آرائی قرار دیا ہے تاہم خود کردوں کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ کم از کم 29 کرد جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ترک حمایت یافتہ فری سیریئن آرمی کے ہلاک شدگان کی تعداد 17 ہے۔

ادارے کے مطابق پیش قدمی کرنے والی افواج نے راس العین اور تل ابیض کے درمیان واقع 10 دیہات پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور یہاں کرد پسپائی کا شکار ہیں۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ دریائے جلب کے مشرق میں ترک فوج کا حملہ پسپا کیا گیا ہے جس میں تین فوجی گاڑیاں تباہ اور 22 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

نقشہ

کرد ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ اب تک ان کے پاس 11 افراد کی ہلاکت اور 28 کے شدید زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں اور ان میں سے بیشتر کا تعلق راس العین اور سرحدی قصبے قامشلی سے ہے۔

ادھر کردوں کی جانب سے کی جانے والی گولہ باری سے ترکی کے سرحدی علاقے میں ایک شامی بچے سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے