ویب ڈیسک —
جاپان میں ہفتے کی صبح آنے والے ملکی تاریخ کے سب سے طاقتورطوفان ہیگی بس نے تباہی مچادی ہے۔ اتوار کی صبح تک کم از کم 11 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات تھیں جبکہ 99 زخمی ہوئے اور ایک درجن سے زائد افراد تاحال ہیں۔
امدادی کاروائیوں کے لیے فوج کی مدد لی جارہی ہے جبکہ اب بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد سیلاب میں سے گھری ہوئی ہے جسے بچانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے اتوار کی صبح بتایا کہ دارالحکومت ٹوکیو سمیت کئی شہروں میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ ملک کے متعدد شہروں اور علاقوں سے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاعات ہیں۔

طوفانی بارشوں کے سبب دریاں کے بندھ ٹوٹ گئے۔ دکانیں، فیکٹریاں اور ٹرین نیٹ ورک بند کردیا گیا جبکہ رگبی ورلڈ کپ اور فارمولا ون گراں پرکس ریس منسوخ کردی گئی۔
طوفان کے باعث اب تک 1500 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں جبکہ 2 لاکھ افراد بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے احتیاطی ہدایات جاری کردی گئی ہیں جبکہ ساحلی علاقوں کے 8 لاکھ مکینوں کو محفوظ مقامات پرمنتنقل ہونے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
طوفان سے متعلق پیشگوئی کی جارہی ہے کہ یہ 1958 میں آنے والے طوفان سے بھی زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور لاپتہ ہوگئے تھے۔

اتوار کی صبح تک طوفان کی شدت میں کچھ کمی ریکارڈ کی گئی تاہم وسطیٰ جاپان کے شہر ناگانو میں دریائی پانی بندھ توڑتا ہوا رہائشی علاقوں میں داخل ہوکر گھروں کی دوسری منزل تک پہنچ گیا۔
جاپانی فوج کے ہیلی کاپٹرز لوگوں کو بچانے کی غرض سے مصروف عمل ہیں۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ہیلی کاپٹرز سے مدد لینے کے لیے بالکونیوں میں کھڑے ہوکر ہوا میں تولیہ لہرایں تاکہ ہیلی کاپٹرز آپ کی طرف متوجہ ہوسکے۔

ناگانو شہر کے ایک اہلکار نے یشوہیرو یاماگاچی نے اے ایف پی کو بتایا کہ گزشتہ رات تک انہوں نے 427 گھروں کے 1417 مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ کل کتنے گھرطوفان سے متاثر ہوئے ہیں۔
طوفان ہیگی بس جاپانی جزیرے ہونشو میں ہفتے کی صبح سات بجے آیا۔ طوفان کے وقت ہواؤں کی رفتار 134 میل فی گھنٹہ تھی۔
ہفتے کی رات تک طوفان نے زیادہ جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی تھیں لیکن اتوار کی صبح تک یہ تعداد بڑھتے بڑھتے 11 ہوگئی۔ زیادہ تر اموات مٹی کے تودے گرنے اور گاڑیوں و مکانات کے پانی میں بہہ جانے کے سبب ہوئیں۔
اتوار کی صبح تک انسانی لاشوں کو مختلف بہتی گاڑیوں سے نکلا گیا جبکہ خلیج ٹوکیو میں ایک کشتی ڈوب گئی جس پر10 افراد سوار تھے۔ چار کو لائف گارڈز نے بچالیا جبکہ باقی کی تلاش جاری ہے۔
نیشنل براڈ کاسٹرز کا کہنا ہے کہ طوفان سے 99 افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک درجن سے زیادہ تاحال لاپتہ ہیں۔

جاپان کے محکمہ خارجہ نے پہلے ہی شدید ترین بارشوں اور طوفان کی پیش گوئی کی تھی۔ محکمے کا کہنا تھا کہ جس شدت کا طوفان ٹوکیو کی جانب بڑھ رہا ہے اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
ٹوکیو کے ایک رہائشی تاجیم توکوڈا کا کہنا ہے کہ ان کے گھر میں ان کے قد سے بھی اونچا پانی بھر گیا تھا جس کے سبب انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ایک کشتی کے ذریعے بچایا گیا۔
ہفتے کو بارش اور طوفان کے باعث لوکل اور بلیٹ ٹرینوں کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ بے شمار فلائٹس کو پرواز کی اجازت نہیں مل سکی ۔ سینکڑوں فلائٹس کو گراؤنڈ کردیا گیا۔
تاہم اتوار کی صبح ٹرین سروس کسی حد تک بحال ہوگئی تاہم نظام سست روی کا شکار ہے جبکہ ملک کے صرف دو ائیرپورٹس پرسروس بحال ہوئی ہے لیکن زیادہ ترفلائٹس کو آج بھی پرواز کی اجازت نہیں مل سکی۔
