برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے بدھ کو اپنے دورے کے دوسری دن کا آغاز چترال سے کیا ہے۔
شہزادی کیٹ مڈلٹن نے چترال آمد پر ایک روایتی چترالی ٹوپی زیب تن کر رکھی تھی، جسے دیکھ کر کئی لوگوں کے ذہن میں ان کی ساس شہزادی ڈیانا کی یادیں تازہ ہو گیں۔
ڈیانا نے اپنے 1991 کے دورے میں چترال کا دورہ کیا تھا اور مقامی لوگوں میں گھل مل گئں تھیں۔ وہاں کے لوگ انھیں ابھی بھی اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔
اس موقع پر شہزادہ ولیم کو بھی حکام نے چترال کا مقامی لباس پیش کیا۔

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کو وادی بروغل کے ایک گلیشیئر پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے ڈاکٹر فرخ بشیر کی جانب سے بریفنگ بھی ملی اور ان کی مقامی لوگوں سے ملاقاتیں بھی ہوں گی۔

اس سے قبل پاکستان آمد کے بعد پہلے روز شاہی جوڑا عمران خان سے ملنے وزیراعظم ہاؤس آیا جہاں ان کے لیے دوپہر کا کھانا رکھا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے وقت شہزادی کیٹ نے سبز رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔

برطانوی شاہی جوڑا ایک رکشے میں بیٹھ کر پاکستان نیشنل مانومنٹ پہنچے جہاں ان کے اعزاز میں ایک عشائیہ منعقد کیا گیا۔ ۔ اس بار شہزادے اور شہزادی دونوں نے ہی منفرد روایتی پاکستانی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔
اس موقع پر اپنی تقریر میں شہزادہ ولیم نے کہا کہ پاکستانی ’ہم پر انحصار کر سکتے ہیں کہ ہم آپ کے حریف اور دوست کے طور پر اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔‘

اس سے قبل برطانوی شاہی جوڑا ایونِ صدر پہنچا تھا جہاں صدر عارف علوی اور خاتون اول نے ان کا اسقتبال کیا۔ ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی اورغربت کے خاتمے سمیت مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔

شاہی جوڑا اسلام آباد میں مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہا ہے۔
اسلام آباد کے ایک سکول کے دورے پر انھوں نے اساتذہ اور بچوں سے ملاقاتیں کیں جبکہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں انھوں نے درختوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے بچوں سے بات چیت کی۔


شاہی جوڑے کی آمد پر سکول کے باہر انھیں ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے سلوٹ کیا۔
شاہی جوڑے نے نوجوان طلبہ کی ذہنی صحت پر توجہ دینے پر زور دیا ہے۔

اس موقع پر شہزادہ ولیم کا کہنا تھا کہ غریب گھرانوں سے آنے والے بچوں کے لیے بنیادی صحت کے مراکز کی کمی ہے۔
گرلز کالج کے ایک استاد سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ‘برطانیہ میں ہم کوشش کررہے ہیں کہ ذہنی صحت کے مسائل تعلیم کا حصہ بنیں۔’
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق انھوں نے سنہ 2011 سے پاکستان میں 55 لاکھ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
ایک سرکاری کالج میں طلبہ سے بات کرتے ہوئے شاہی جوڑے نے پاکستان میں خواتین کی شرح خواندگی کی کمی پر اظہار خیال کیا۔

’لیڈی ڈیانا کے فین‘
جہاں پاکستان میں شہزادی کیٹ اور لیڈی ڈیانا کے ملتے جلتے کپڑوں کی بات ہورہی ہے تو وہیں شاہی جوڑے کو اسلام آباد میں کئی بار یہ سننے کو ملا کہ وہ لیڈی ڈیانا کے چاہنے والے ہیں۔

کالج کی ایک طالبہ نے شہزادہ ولیم کو بتایا کہ وہ اور ان کی دیگر ہم جماعت ان کی والدہ کی فینہیں۔ جواب میں شہزادہ ولیم نے کہا ’آپ کا بہت شکریہ۔ میں بھی اپنی والدہ کا بڑ فین ہوں۔‘
’وہ یہاں تین مرتبہ آئیں۔ اس وقت میں بہت چھوٹا تھا۔ میں یہاں پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ یہاں آنا اور آپ سے ملنا بہت اچھا رہا۔‘
کنسنگٹن پیلس کے مطابق خطے میں سکیورٹی اور سیاسی کشیدگی کے اعتبار سے یہ دونوں کا سب سے مشکل دورہ ہے۔
برطانوی ہائی کمیشن نے مقامی میڈیا کو منظم رہنے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان آمد
پیر کو شاہی جوڑے کا راولپنڈی کے نور خان ائیر بیس پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے استقبال کیا گیا تھا۔
شاہی جوڑے کا خیر مقدم کرنے کے لیے انھیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے
یہ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن کا پہلا دورہ پاکستان ہے تاہم برطانوی شاہی خاندان کے دیگر افراد ماضی میں پاکستان آ چکے ہیں۔
سنہ 2006 میں شہزادہ ولیم کے والد شہزادہ چارلس نے اپنی اہلیہ، ڈچس آف کارن وال کامیلا پارکر کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا تھا جبک ان کی والدہ’پرنسز آف ویلز شہزادی ڈیانا نے سنہ 1991، 1996 اور 1997 میں پاکستان کے دورے کیے تھے۔
