کراچی کے جناح اسپتال میں ڈینگی بخار کے باعث ایک اورمریض چل بسا ، ابتدائی اطلاعات کے مطابق21 سالہ نوجوان کو ڈینگی بخار کے سبب رات گئے اسپتال لایا گیااہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں عملے کی غفلت اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث مریض علی الصبح دم تو ڑ گیا ۔
لواحقین نے نرسنگ اسٹاف کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اسپتال میں توڑ پھوڑکی ، اوراسپتال انتظامیہ کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کردیا۔
اکیس سالہ نوجوان کی ہلاکت کے بعد سال 2019ء میں ڈینگی مرض سے جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی۔
واضح رہے محکمہ صحت حکام کے مطابق شہر قائد میں اب تک ڈینگی کے 3 ہزار 624 مریض رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں افراد اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
حکام کے مطابق 4 روز میں ڈینگی کے کیسز کی تعداد 624 تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر میں بارشوں اور گندگی کے باعث ڈینگی کے مرض میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ رواں سال سندھ میں ڈينگی سے متاثر 3841 افراد میں سے 3624 مریضوں کا تعلق کراچی سے ہے۔
وزيراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ڈینگی کے مریضوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا، سیکریٹری صحت اور کمشنر کو انسداد کیلئے اقدامات کی ہدایت کردی، ان کا کہنا ہے کہ تمام سوئمنگ پولز، کھلے مقامات پر کھڑے پانے کی صفائی اور فیومیگیشن کا عمل فوری کرایا جائے، تمام ڈپٹی کمشنرز ڈی ایم سیز کی مدد سے اپنے علاقوں ميں اسپرے کرانے کے پابند ہوں گے۔
