اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کرنے والا فل کورٹ (لارجر بینچ) ایک مرتبہ پھر تحلیل ہوگیا۔
عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے آغاز میں ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے بتایا کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل کی عدم دستیابی کے باعث بینچ تحلیل کر رہے ہیں۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا رہے ہیں، اس دوران منیر اے ملک نے استدعا کی کہ مقدمے کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بینچ کی تشکیل عدالت کی صوابدید ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی آئینی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تحلیل ہوا تھا۔
17 ستمبر کو اس معاملے پر سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ، ججز پر اعتراض کے بعد تحلیل ہوگیا تھا اور نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیج دیا گیا تھا۔
عدالت عظمیٰ کے اس 7 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست سنی تھی، اس بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل شامل تھے۔
تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کی جانب سے ججز پر اعتراض اٹھایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ‘جن ججز نے چیف جسٹس بننا ہے، ان کی (کیس میں) دلچسپی ہے، اس بینچ کے 2 ججز ممکنہ چیف جسٹس بنیں گیے اس طرح مذکورہ کیس سے ان دو ججز کا براہ راست مفاد وابستہ ہے’۔
بعد ازاں اس وقت بینچ میں شامل جسٹس طارق مسعود نے کہا تھا کہ ہم پہلے ہی ذہن بنا چکے تھے کہ بینچ میں نہیں بیٹھنا، اس کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے تھے کہ ہم نے جو حلف اٹھایا ہے تمام حالات میں اس کا پاس رکھنا ہوتا ہے، ہمارے ساتھی جج کی جانب سے ہمارے بارے میں تحفظات افسوسناک ہیں۔
علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے دونوں ججز جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سردار طارق مسعود نے خود کو بینچ سے الگ کردیا تھا جس سے بینچ تحلیل ہوگیا تھا۔
بینچ کی تحلیل کے بعد معاملہ چیف جسٹس کے پاس گیا تھا، جنہوں نے 20 ستمبر کو صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے لیے نیا 10 رکنی فل کورٹ تشکیل دیا تھا۔
عدالت عظمیٰ کے اس 10 رکنی بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین احمد شامل تھے۔
اس بینچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس عیسیٰ کی درخواست سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت بھی کی تھی، تاہم آج بینچ کے ایک رکن کی غیرموجودگی پر یہ بینچ بھی تحلیل ہوگیا۔
بینچ تحلیل ہونے پر وکلا کا سخت ردعمل
عدالت عظمیٰ کی جانب سے بینچ تحلیل کرنے پر سینئر وکلا کی جانب سے اعتراض کیا گیا اور کہا گیا کہ ایک جج کی عدم موجودگی کے باعث دو سماعتیں کرنے والے بینچ کی تحلیل سمجھ سے بالاتر ہے۔
سینئر وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ اس کیس میں کیا جلد بازی ہے یہ سمجھ نہیں آرہا جبکہ کسی نے بینچ تحلیل کرنے کی استدعا بھی نہیں کی۔
ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید رضوی نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری کے کیس میں 2 ماہ 5 دن کیس چلا، تاہم اس کیس میں پہلے دن سے لگ رہا ہے کہ ان ججزکا بس چلے تو یہ گھنٹے میں فیصلہ کردیں۔
انہوں نے کہا کہ کیا یہ کسی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے فیصلہ دینا چاہتے ہیں، اس حوالے سے فیصلہ موجود ہے کہ جب بینچ تشکیل دیا جائے تو وہ تحلیل نہیں ہوسکتا، ان ججز کا کندیکٹ نظر آرہا ہے کہ انصاف نہیں ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے نائب چیئرمین سید امجد علی شاہ نے بھی میڈیا سے بات کی اور کہا کہ ہماری قاضی فائز عیسٰی پر صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستیں تهیں اور تمام درخواست گزار موجود تهے، تاہم ایک جج کی غیر موجودگی کی وجہ سے بینچ کو تحلیل کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی حکم ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے انصاف نہیں ہوگا، بغیر کسی گراؤنڈ کے بینچ تحلیل کردیا گیا۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس بینچ کے علاوہ دوسرے بینچ پر ہمارا اعتراض ہوگا، لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ یہی بینچ کیس سنے کیونکہ ایک جج دو سماعتیں سن چکے ہیں۔
اس معاملے پر سینئر وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ یہ روایت ہے جب ایک بینچ سماعت کرتا ہے تو پورا کیس وہی سنتا ہے، یہ فل کورٹ بنایا گیا تها اور چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں کہ کوئی دوسرا بینچ بنائیں۔
حامد خان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایک جج نہیں ہے تو انتظار کیا جاسکتا ہے، یہاں کوئی مجبوری نہیں ہے، سپریم کورٹ کے فل کورٹ کا حکم موجود ہے اور یہ تبدیل نہیں ہوسکتا، لہٰذا اگر ایسا ہوا تو یہ غیر آئینی اقدام ہوگا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست
خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی درخواست فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالتی مثالیں دیتے ہوئے کہا تھا کہ فل کورٹ بنانے کی عدالتی نظیر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بنام ریاست کیس میں موجود ہے۔
اپنے اعتراضات کی حمایت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس 427 (دوسری درخواست) پر سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے فیصلے میں ‘تعصب’ ظاہر کیا اور وہ منصفانہ سماعت کی اپنی ساخت کھوچکی ہے۔
اپنی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ وہ کوئی بھی ریفرنس کا سامنا کرنے کو تیار ہیں اگر وہ قانون کے مطابق ہو لیکن انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ اور بچوں کو مبینہ طور پر اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا تھا کہ درخواست گزار کی اہلیہ اور بچوں پر غیر قانونی طریقے سے خفیہ آلات اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال کرکے سروے کیا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنسز
واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا معاملہ رواں سال مئی میں شروع ہوا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔
تاہم اس ریفرنس سے متعلق ذرائع ابلاغ میں خبروں کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت عارف علوی کو متعدد خطوط لکھے اور پوچھا کہ کیا یہ خبریں درست ہیں۔
بعدازاں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے جج کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے اور ان سے جواب مانگنے پر ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔
تاہم سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے اس ریفرنس کو خارج کردیا اور کہا کہ کئی وجوہات کی بنا پر کونسل کو صدر مملکت کو خطوط لکھنے کا معاملہ اتنا سنگین نہیں لگا کہ وہ مس کنڈکٹ کا باعث بنے اور اس کی بنیاد پر انہیں (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹایا جاسکے۔
