English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بریسٹ کینسر مرض ہے عیب نہیں ، مریض سے محبت کیجیے تاکہ وہ پھر سے جی اُٹھے

میری اور اس کی ملاقات ایک اسپتال کے کاریڈو میں ہوئی تھی ، میں اپنی امی کے روٹین چیک اپ کے لیے وہاں گئی تھی ، امی کو فیملی ڈاکٹرکے حوالے کر نےکے بعد میں اندر کی گھٹن اور اسپتال کی مخصوص قسم کی بو سے گھبرا کر باہر کاریڈور میں آ گئی تھی ، ایسے میں میری نظر اس پر پڑی وہ دیگر مریضوں کی قطار میں لیکن ذرا فاصلے پر سمٹ کر بیٹھی ہوئی تھی اور میں محسوس کررہی تھی کہ اس کے ذرا فاصلے پر بھی جو مریض بیٹھے تھے وہ بھی اس کی طرف دیکھنے کے بعد ناک بند کرنے کا تاثردے رہے تھے ، کچھ خواتین نے باقاعدہ منہ پر دوپٹے سے ماسک سا بنا لیا تھا جیسے وہ کوئی بو محسوس کر کے خود کو اس سے بچانا چاہ رہی تھیں ، سچی بات یہ ہے کہ میں نے ابھی تک کوئی ایسی بدبو محسوس نہیں کی تھی جس کی وجہ سے میں اس ماحول سے بھی فرار کا سوچتی شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں انتہائی نفیس اور مہنگے قسم کا پرفیوم استعمال کرتی تھی اور دوسری وجہ مجھے اس عورت کے چہرے سے بلاوجہ کی شناسائی یا پھر ہمدردی سی محسوس ہو رہی تھی ، میں چند قدم چل کر اس کے قریب جا کر بیٹھ گئی اور میرے قریب بیٹھنے پر وہ پھر سے ذرا پرے کسک گئی اور اس بار اس کی حرکت سے میں نے تیز لیکن بہت ہی عجیب سے بدبو کا بھبھکا محسوس کیا میں نے ایک لمحے میں اٹھنے کا سوچا لیکن اگلے ہی لمحے میرا فطری تجسس اور سوشل ورک جیسی فیلڈ میں کام کرنے کی جستجو وہاں بیٹھنے پر مجبور کرگئی۔

سنو ! تم یہاں کیوں آئی ہو ، آئی مین کس ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے جانا چاہتی ہو؟

میرا سوال اس کو چونکا گیا اس نے نظریں اٹھا کر مجھے دیکھا اور میں نے اس کی بھوری  آنکھوں میں عجیب سی بے بسی اور مجبوری دیکھی ایسی مجبوری جو کہہ رہی ہومجھے کیا پتا مجھے کس ڈاکٹر کے پاس جانا ہے؟

 اچھا مجھے بتاؤ ، تمہیں کیا پریشانی ہے تم اپنا چیک اپ کروانے آئی ہو کس چیز کا چیک اپ کروانے آئی ہو ؟میں نے جان بوجھ کر لفظ بیماری استعمال نہیں کیا پچھلے کئی سالوں سے یہ  لفظ ہماری زندگی کی ساری خوشیاں کھا گیا تھا اس لیے میں اس کو اپنی زندگی سے نکل جانے کی دعا کیا کرتی تھی ۔

میرے اس سوال کے جواب میں اس نے ذرا سا اپنا دوپٹہ کھسکا دیا اور پھر اس کے بعد گویا میری آنکھوں میں دیکھنے کی تاب نہ رہی۔

گردن سے نیچے نیچے بدہیئت زخموں سے رستا مواد اور پیپ ہی دراصل اس بدبو کا سبب تھا جو مجھے اب پوری شدت کے ساتھ محسوس ہورہی تھی اور یہ زخم اتنے خراب ہوچکے تھے کہ ان میں مجھے کیڑے بھی بلبلاتے ہوئے نظر آئے بس ایک لمحے کو میں نے پوری آنکھیں بند کیں شاید ہمت مجتمع کرنے کے لیے اور پھرخود کو پوری طرح راضی کر کے آنکھیں کھول دیں ۔

یہ سب کیا ہے ؟ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا ہے کیا کسی نے تمہارے اوپر تیزاب ڈالا ہے ؟ میں جلدی جلدی اندازے لگانے لگی کیونکہ اس کا زخم ایسا تھا جیسے کسی نے تیزاب ڈال کر جھلسا دیا ہو  لیکن اس کاجواب میرے اندازوں کے بالکل برعکس تھا ۔ میرے تو دماغ میں دھماکے سے ہونے لگے ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے اور اتنا زیادہ کوئی کسی کو کیسے نظر انداز کر

سکتا ہے ۔ میں عادت کے مطابق جھنجلانے لگی ۔

دراصل وہ کم عمر سی دیہاتی عورت چھاتی کے کینسر کی مریضہ تھی ۔ جس کا کینسر بروقت تشخیص اور پھر علاج نہ ہونے کے باعث اتنا بگڑ چکا تھا کہ اب اس میں کیڑے پڑچکے تھے اس کی شادی کو بمشکل دو سال ہوئے  تھے سال بھر کے بچے کی ماں تھی وہ لیکن جو تھیلیاں اللہ کی طرف سے اس کے بچے کے لیے رزق کا سبب بنتیں وہ پیپ آلودہ خون اور کیڑوں سے بھر چکی تھیں ۔اف خدایا ایسا کیوں کر ہوااتنا ظلم اس کے ساتھ کس نے کیا۔ اس کا تو علاج ہو سکتا تھا اگر بروقت تشخیص ہوجاتی کیونکہ میری امی  اس وقت خود بھی ایسے ہی مرض میں مبتلا تھیں لیکن اللہ کا کرم یہ ہوا کہ بروقت تشخیص کے باعث ان کا علاج ہوا اورآج وہ اپنے ماہانہ چیک اپ کے لیے آئی تھیں ۔

تم ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں گئیں ؟ تم اب آئی ہو جب تمہاری حالت اتنی خراب ہوچکی ہے تمہیں اتنا بھی ہوش نہیں تھا کہ تمہارے ساتھ ہو کیا رہا ہے تمہارے گھر میں کیا سارے بے وقوف بستے ہیں جو تمہیں یوں بیماری کے منہ میں جاتے دیکھتے رہے ، حد ہی ہوگئی ؟

میں تقریباً اس پر چیخ ہی پڑی لیکن اگلے ہی لمحے وہ بلک بلک کر رو دی ، اس کی گہری بھوری آنکھوں میں آنسو کم اور درد زیادہ تھا وہ جو کچھ بول رہی تھی وہ ناقابل یقین تھا۔اس کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل جب چھوٹی سی گِلٹی بنی تو علاقے کے حکیم صاحب گئی اس نے کوئی معجون اور سفوف دیے جو میری ساس نے کھانے نہیں دیے کہ اس طرح کی دوائیاں کھانے سے بچے کا دودھ خشک ہو جائے گا (اف ہماری جاہل عوام ) پھر کچھ دنوں بعد واقعی جب بچے کادودھ خشک ہوگیا اور درد حد سے زیادہ بڑھ گیا تواس کا شوہر اسے محلے کے ہی ایک ڈاکٹر کے پاس لے گیا محلے کے ڈاکٹر نے کینسر کا شک ہی ظاہر کیا تھا کہ سسرال والوں نے اس کے ساتھ کھانا پینا الگ کر لیا حتی کہ شوہرنے بچہ چھین کراسے واپس میکے بھجوا دیا کہ ایسی داغی بیوی کے ساتھ میں اپنی زندگی خراب نہیں کرسکتا ۔ گھر ٹوٹنے اور بچے کی جدائی کا زخم سرطان کے زخموں پر حاوی ہوتا چلا گیا ۔ میکے والوں کے مالی حالات ایسے نہ تھے کہ اسے کسی اسپیشلسٹ تک لے جاتے ادھر ادھر کے سرکاری اسپتالوں سے ہوتے ہوئے وہ آج یہاں پہنچی تھی تو یہ حالت ہوچکی تھی ۔ میرا دل چاہ رہا تھا میں اس کے سسرال والوں کو بم بلاسٹ میں ختم کروا دوں اور اس کے میکے والوں کو ایسی کھری کھری سناؤں کہ وہ خود ہی پچھتا پچھتا کر مرجائیں کیونکہ ان لوگوں کی غفلت نے ایسی معصوم اور پیاری سی صورت کو موت کی دہلیز پر لاکر کھڑا کیا تھا اور موت بھی ایسی درد ناک کہ کوئی اس کے پاس عیادت کرنے اورہمدردی کے دوبول بولنے کے لیے بھی نہ کھڑا ہو ۔

میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور ڈاکٹرکے کمرے کی طرف چل پڑی۔ لوگ مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے اور جب وہ لوگوں کے پاس سے گزر رہی تھی تو سب نے اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لیا تھا اور ذرایک طرف ہو کر راستہ دے دیا تھا ۔ میرے چہرے پر تکلیف دہ تاثر تھا میں جانتی تھی اس وقت ان سب کے دماغوں میں کیا چل رہا تھادراصل ہم لوگ  اس طرح کی بیماری کو چھوت کی بیماری سمجھ کر انسان سے ہی نفرت کرنا شروع کردیتے ہیں۔

بریسٹ کینسر کو لے کرجو بھی  غلط فہمیاں ہیں اس کے لیے ہمارے دماغوں سے لاعلمی کے سرطان کو نکالنا ضروری ہے میرا دل چاہا میں وہیں رک کر لوگوں کو بتادوں کہ یہ ہر گز بھی چھوت کا مرض نہیں نہ ہی یہ ایک عورت سے دوسری عورت کو لگ سکتا ہے ہاں یہ لاعلاج اسی صورت میں ہوگا جب اس کے علاج میں کوتاہی کی جائے گی ورنہ اس کا بروقت علاج ہوجائے تو مریض مکمل صحت یاب ہوجاتا ہے ۔ زیادہ تر لوگوں کی سوچ یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ صرف بڑی عمر کی خواتین ہی کو ہو سکتا ہے جوکہ بلکل غلط ہے ۔ کیونکہ ہماری فیملی میں میری والدہ کو ہوا تو پھر میری ایک کم عمر کزن جس کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تھی اس کے سینے کی گلٹی بھی کینسر کی ابتدائی علامت کے طور پر تشخیص کر لی گئی ۔  لیکن میری اس کزن کے ساتھ سوشل ٹیبو پہلے اس کے گھر والوں کی طرف شروع ہوا کیونکہ اس کی بھابھی کا کہنا تھا کہ اب اس کے ساتھ شادی کون کرے گا تب میں نے ہی اپنی کزن کوسمجھایا کہ زندگی بخیر رہے تو باقی سب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا لہذا تم صرف اس بات پر فوکس کرو کہ تم نے جینا ہے اور اس موذی کو شکست دینی ہے ، میری وہ کزن آج اتنا زیادہ بریسٹ کینسر کے بارے میں جانتی ہے ایک کتاب لکھنے کا سوچ رہی ہے تاکہ لوگ اس مرض کو عورت کی جنسی کجی کے طور پر نہ لیں اور نہ ہی اسے عورت کے لیے باعث شرم سمجھا جائے کیونکہ یہ کینسر مردوں میں بھی ہوسکتا ہے لیکن ہارمونلز ایشوز کی وجہ سے عورتوں میں اس کی شرح زیادہ ہے ۔

میں امی کو لے کر گھر آگئی لیکن میرے دل دماغ سے وہ بھوری آنکھوں والی عورت نہ نکل سکی ۔ اس کی آنکھوں میں جینے کی امید کا اپنا ہی رنگ تھا اور درد کی ایک الگ ہی کیفیت ۔  آج جب میں یہ آرٹیکل لکھنے بیٹھی تو میں نے جانے کس خیال کے تحت ڈاکٹر کو فون کر لیا اور اس مریضہ کی خیریت دریافت کی ۔ ڈاکٹر کا جواب ایک طویل خاموشی کے بعد حوصلہ افزا نہیں تھا میری آنکھیں نم ہو گئیں ۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا لوگوں کو بہت زیادہ آ گہی کی ضرورت ہے کیونکہ کینسر کا مریض نہ چاہتے ہوئے بھی موت کا انتظار شروع کر دیتا ہے اور اس کی یہ کم ہمتی اس کے علاج کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے ۔ میں نے اپنی امی کے علاج کے دوران جو سیکھا جو سمجھا وہ میں اس تحریر کے ذریعے آپ سب تک پہنچانا چاہتی ہوں تاکہ پھر کسی کی بھوری آنکھوں سے زندگی کی امید نہ ختم ہو ۔

اکتوبراورچھاتی کاسرطان

ماہ اکتوبر کو چھاتی کے سرطان کے حوالے سے آگاہی کے لیے مختص کیا گیا ہے ہونا یہ چاہیے کہ گھر کا کوئی ایک سمجھدار فرد چاہے وہ مرد ہو یا عورت وہ اپنے گھر کی ساری عورتوں کو میموگرافی کے لیے آمادہ کرے یہ ٹیسٹ مہنگا ضرور ہے لیکن انسانی صحت سے زیادہ نہیں ۔ خواتین خود اپنا معائنہ بھی کر سکتی ہیں اگر وہ اپنے اندر کسی قسم کی غیر معمولی تبدیلی محسوس کریں تو اس کو ہر گزنظرانداز نہ کریں ۔ اس حوالے سے مجھے  ہالی ووڈ اسٹارانجلینا جولی کا ایک قول یاد آرہا ہے اس کا کہنا ہے وہ  سب خواتین  جن کے خاندان میں  بریسٹ کینسر سے  متاثرہ کوئی خاتون ہے  تو انہیں جلد از جلد اپنا ٹیسٹ کروالینا چاہیے  اور اگر  ان کو بریسٹ کینسر جیسے مرض کی تشخیص ہوجائے تواپنے علاج کا فیصلہ  خود  اور جلد کر لیں ۔ اس فیصلے پر کسی کو اثر انداز ہونے نہ دیں ۔

 خواتین کے لیے خطرہ

یہ خواتین کو ہونے والا سب سے عام کینسر ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کینسر کے امکانات بھی زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔ایشیا میں چھاتی کے کینسر کی سب سے زیادہ شرح پاکستان میں  ہے۔ ہر نو پاکستانی عورتوں میں سے ایک چھاتی کے کینسر کا شکار ہوتی ہے۔ ہر سال تقریباً 40 ہزار خواتین اس موذی مرض کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ بریسٹ کینسر سے پوری دنیا میں ہر سال تقریباً 5 لاکھ خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

کینسر کا علاج مثبت سوچ سے

ماہرین کہتے ہیں کہ کینسر کا آدھا علاج خوش رہنے میں ہے خاص طور خواتین فطری طور پر زیادہ حساس اور زود رنج ہوتی ہیں وہ علاج معالجے کی طوالت اور اخراجات کے حوالے سے اپنے اہل خانہ پر بوجھ نہیں بننا چاہتیں اس لیے مرض کودوسروں سے چھپا کر رکھنے میں عافیت جانتی ہیں حالانکہ زندگی حساسیت کے سہارے نہیں بلکہ صحت کے ساتھ ہی گزاری جاسکتی ہے ۔ یقین جاینے ایک بیمارعورت کا بوجھ کوئی نہیں اٹھانا چاہتا اس لیے بیماری کو اس وقت تشخیص کر لیں جب وہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہو ۔ علاج کے ساتھ مثبت سوچ اور جینے کی لگن کو توانا رکھیں ۔ اگراردگرد کا ماحول جینے کی لگن میں رکاوٹ بنے یہ مرض عیب تصور کیا جائے تب بھی زندگی سے بڑھ کر کچھ نہیں کیونکہ یہ دوبارہ کبھی نہیں ملے گی ۔ کینسرکو اپنے مثبت طرزعمل اور خوش گمانی سے شکست دیں ۔

کینسر مرض ہے کوئی عیب نہیں

 ایک آخری بات کینسر چھاتی کا ہو یا خون کا یا پھر کسی دوسرے عضو کا یہ  مرض ہے کوئی عیب نہیں ، مریض سے محبت کرنا مت چھوڑیے کیونکہ آپ کی محبت اسے نئی زندگی دے   سکتی ہے ۔ وہ جو ایک جملہ ہے نا میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں یہ جملہ کیمو تھراپی کی شعاعوں سے زیادہ زود اثر ہے ۔ ماہرین جینیات کہتے ہیں کہ سرطان کے مریض کو گھر والوں کی طرف سے خصوصی توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی صحت میں مثبت ہارمونل تبدیلی لاتی ہے ، میری امی کی ڈاکٹر کا بھی یہ ہی کہنا تھا اگر اس بھوری آنکھوں والی کے پاس اس کے اپنے ہوتے اس کے زندہ رہنے کی طاقت بنتے تو وہ ضرور اس بیماری سے جنگ کرتی لیکن دونوں محاذوں پر تنہائی نے  اسے آخری منزلوں کا مسافر بنا دیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے