
پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے دعوے کو بے نقاب کرنے اور حقائق سے آگہی کے لیے غیر ملکی سفرا، ہائی کمشنرز کو آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ کروانے کے لیے وادی نیلم پہنچا دیا۔
تاہم پاکستان میں متعین بھارتی ناظم الامور گورو اہووالیا ان سفرا کے ساتھ ایل او سی نہیں گئے۔
ایل او سی کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سفرا کے ہمراہ وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود ہیں۔
اس دورے کے دوران سفرا و ہائی کمشنرز کو بریفنگ بھی دی جائے گی اور وہ متعدد سیکٹرز کا دورہ کریں گے، جن میں جورا، شاہ کوٹ اور نوشہری شامل ہیں، اور وہ ان مقامات کا جائزہ بھی لیں گے جنہیں بھارتی اشتعال انگیزی کی صورت میں نقصان پہنچا۔
اس حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ کی اور لکھا کہ کتنا اچھا بھارتی ہائی کمیشن ہے جو اپنے آرمی چیف کے ساتھ ہی کھڑا نہیں ہوسکتا؟
What good Indian High Commission is which can’t stand with its Army Chief? Indian High Commission staff didn’t have the moral courage to accompany fellow diplomats in Pakistan to LOC. However, a group of foreign diplomats media is on the way to LOC to see the truth on ground.
— DG ISPR (@OfficialDGISPR) October 22, 2019
ڈی جی آئی ایس پی آر نے لکھا کہ بھارتی ہائی کمیشن کے عملے میں اخلاقی جرات نہیں کہ وہ پاکستان میں ساتھی سفرا کے ساتھ ایل او سی جائیں، تاہم غیر ملکی سفرا اور میڈیا کا ایک گروپ ایل او سی جارہا ہے تاکہ وہ زمینی حقائق دیکھ سکے۔
قبل ازیں اس دورے سے کچھ گھنٹوں قبل ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کچھ ٹوئٹس بھی کی تھیں، جس میں دورے کے حوالے سے بات کی تھی۔
“Claims” by Indian Army Chief remain just that: “claims”
— Dr Mohammad Faisal (@DrMFaisal) October 22, 2019
ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ ‘بھارتی آرمی چیف کا دعویٰ محض دعویٰ ہی رہ گیا، بھارت کا کوئی سفارتکار ایل او سی کے دورے پر نہیں آیا اور نہ ہی بھارت نے مبینہ لانچنگ پیڈز کے کوآرڈینیٹس فراہم کیے’۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ نے ایک ٹوئٹ کی تھی، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ‘بھارتی سفارتخانے نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پیش کش کا جواب نہیں دیا، یہ چیز اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ان کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے دعووں کی حمایت کرنے کے لیے کوئی زمینی حقائق موجود نہیں ہیں’۔
Indian Embassy has yet not responded to offer made by DG ISPR. It indicates that they have no grounds to support false claim by their COAS. We expect them to respond soon.
— Dr Mohammad Faisal (@ForeignOfficePk) October 21, 2019
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ بھارتی حکام جلد جواب دیں گے۔
بعد ازاں ڈاکٹر فیصل کے ٹوئٹ کے ردعمل میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ بھارت کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے دعوے کو سچ کہنے کا جواز نہیں، اگر وہ دورہ نہیں کرنا چاہتے تو ہمارے دفتر خارجہ سے جگہ کی لوکیشن شیئر کر لیں’۔
Indians have no grounds to support false claim made by their COAS. If they don’t want to go they have the option to share claimed targeted locations with our foreign office. We will take foreign diplomats media tomorrow on those given locations. Let all see facts on ground. https://t.co/vaWaSymRbm
— DG ISPR (@OfficialDGISPR) October 21, 2019
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم غیر ملکی سفارت کاروں اور میڈیا کو ان مقامات پر لے جائیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کہ زمینی حقائق کیا ہیں’۔
واضح رہے کہ 20 اکتوبر کی رات کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘بھارتی آرمی چیف کا آزاد جموں و کشمیر میں مبینہ طور پر 3 کیمپس تباہ کرنے کا دعویٰ مایوس کن ہے، کیونکہ وہ ایک انتہائی ذمہ دارانہ عہدے پر فائز ہیں’۔
Indian COAS’ statement claiming destruction of 3 alleged camps in AJK is disappointing as he holds a very responsible appointment. There are no camps let alone targeting those. Indian Embassy in Pakistan is welcome to take any foreign diplomat / media to ‘prove’ it on ground.1/2.
— DG ISPR (@OfficialDGISPR) October 20, 2019
انہوں نے کہا تھا کہ ‘ایسے کوئی کیمپس نہیں ہیں جنہیں ہدف بنایا گیا ہو جبکہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن اگر یہ ثابت کر سکتی ہے تو غیر ملکی سفارت کاروں اور میڈیا کو اس جگہ لے جائے’۔
خیال رہے کہ بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے آزاد کشمیر میں واقع وادی نیلم میں مبینہ دہشت گرد کیمپس تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جسے پاکستان نے مسترد کردیا۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان میں ‘اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے 5 مستقل ممالک (پی-5) سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بھارت کو مبینہ ٹھکانوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا کہیں‘۔
دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممالک کے سفارتکاروں کو بھارت کا جھوٹ بے نقاب کرنے کے لیے ان مقامات کا دورہ کروانےکی خواہش کا اظہار کیا تھا’۔
دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ’بھارت کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانا مقبوضہ جموں کشمیر میں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے‘۔
ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزی
واضح رہے کہ 20 اکتوبر کو آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال شیلنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان اور 6 شہری شہید ہوگئے تھے۔
بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سماجی رابطے پر کیے گئے ٹوئٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید جبکہ دیگر 2 زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا تھا کہ پاک فوج نے بھارتی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کرتے ہوئے بھارتی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 9 بھارتی فوجی ہلاک جبکہ دیگر 9 زخمی ہوگئے۔
بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی کے باعث 2 بھارتی بنکرز بھی تباہ ہوگئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ‘پاکستان کی موثر کارروائی کے بعد بھارتی فوج نے سفید جھنڈا لہرا دیا، بھارتی فوج نے لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانے کی کوشش کی’۔
ٹوئٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ‘بھارتی فوج کو سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی سے پہلے سوچنا چاہیے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرتے ہوئے فوجی اصولوں کا احترام کرنا چاہیے’۔
